Book - حدیث 2927

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ الطِّيبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ صحیح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُلَبِّي

ترجمہ Book - حدیث 2927

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل باب: احرام باندھتے وقت خوشبو لگانا حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہے‘انھوں نے فرمایا:’’گویا میں رسول اللہ ﷺ کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اور رسول اللہ ﷺ لبیک پکار رہے ہیں۔‘‘ 1۔امام بخاری نے صحیح میں یہ حدیث روایت کی ہے کہ ایک ادمی نے عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا اور اس سے خوشبو آرہی تھی ۔رسول اللہ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ اس خوشبو کو تین بار دھوئے۔(صحيح البخاري الحج باب غسل الخلوق ثلاث مرات باب حديث:١٥٢٦) اور یہ حدیث بھی روایت کی ہے جو سنن ابن ماجہ کے اس باب کی پہلی حدیث (صحيح البخاري الحج باب الطيب عند الحرام۔۔۔۔حديث:١٥٣٩) ان دونوں روایات میں بظاہر تعارض محسوس ہوتا ہے۔ان کے درمیان تطبیق یہ دی گئی ہے کہ خوشبو دھونے کا واقعہ پہلے کا ہے اس کے بعد نبی ﷺ کے عمل سے یہ ثابت ہوا کہ احرام باندھتے وقت خوشبو کا استعمال جائز ہے چنانچہ معلوم ہوا کہ دھونے کے حکم والی حدیث 8ھ کا واقعہ ہے جو مقام جعزانه میں پیش آیا۔اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کا نبیﷺ کو خوشبو لگانے کا واقعہ حجۃالوداع کا ہےجو10ھ میں ادا کیاگیا۔علاوہ ازیں جس خوشبو کو دھونے کا حکم دیا گیا وہ خلوق تھی جس میں زعفران کی آمیزش ہوتی ہے۔اور مرد کے لیے زعفران کی خوشبو استعمال کرنا احرام کے علاوہ ممنوع ہے۔(مفهوم فتح الباري :٣/٤٩٨) 3۔دس ذی الحجہ کو ری جمرات اور سر منڈوانےیا بال چھوٹے کرانے کے بعد احرام کی پابندیاں اٹھ جاتی ہیں۔صرف ازدواجی تعلقات والی پابندی باقی رہ جاتی ہے۔اس لیے دن کعبہ احرام کی چادروں کے بجائے عام سلے ہوئے لباس میں کیا جاتا ہے چنانچہ اس طواف سے پہلے خوشبو لگانا بھی جائز ہو جاتا ہے۔