Book - حدیث 2900

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ الْمَرْأَةِ، تَحُجُّ بِغَيْرِ وَلِيٍّ صحیح حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي اكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا وَامْرَأَتِي حَاجَّةٌ قَالَ فَارْجِعْ مَعَهَا

ترجمہ Book - حدیث 2900

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل باب: محرم کر بغیر عورت کا حج حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے‘ انھوں نے فرمایا : ایک اعرابی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میرا نام فلاں فلاں غزوے میں لکھا گیا ہے اور میری عورت حج کے لیے روانہ ہو چکی ہے۔آپﷺ نے فرمایا:’’اس کے ساتھ چلا جا۔‘‘ 1۔سفر میں محرم کی اہمیت اس قدر زیادہ ہےکہ اس عذر کی وجہ سے جہاد میں نہ جانےکی اجازت مل گئی۔ 2۔حج کے سفر میں اگر عورت کا کوئی محرم ساتھ جانے والا نہ ہو یا محرم موجود ہو لیکن وہ حج کا خرچ برداشت نہ کرسکتا ہو اور نہ عورت ہی اس کا خرچ برداشت کرسکتی ہوتو عورت پر حج فرض نہیں رہے گا کیونکہ استطاعت حاصل نہیں رہی۔ 3۔بعض علماء نے فرمایا اگر دوسری عورتیں اپنے محرموں کے ساتھ جارہی ہوں تو ان کے قافلے کے ساتھ وہ عورت بھی جاسکتی ہے جس کا محرم نہیں یا اس کے محرم کو سفر حج کی طاقت نہیں کیونکہ اس صورت میں عورت کی عزت وعصمت کے لیے وہ خطرات بالعموم نہیں رہتے جن کے پیش نظر عورت کو محرم کے بغیر سفر کرنے سے روکا گیا ہے۔واللہ اعلم۔