Book - حدیث 2869

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابُ الْبَيْعَةِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَمْ يَشْعُرْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيزُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعْنِيهِ فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدَ ذَلِكَ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ

ترجمہ Book - حدیث 2869

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل باب: بیعت کا بیان حضرت جابر ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا:ایک غلام نے حاضر ہوکر ہجرت کی بیعت کر لی۔نبی ﷺ کومعلوم نہ تھاکہ وہ غلام ہے۔(بعد میں) اس کا آقا اسے لینےآگیا تو نبیﷺ نےیہ(غلام)میرے ہاتھ فروخت کر دو۔چنانچہ آپ نے اسے دوسیاہ فام غلاموں کے عوض اسے خرید لیا۔اس کےآپ کےبعدآپ یہ پوچھے بغیر کسی سے بیعت نہیں لیتے تھے کہ کیا وہ غلام ہے؟ 1۔غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر ہجرت نہیں کرسکتا کیونکہ اس طرح آقا اس سے خدمت لینے کے حق سے محروم ہوجاتا ہے۔ 2۔غلاموں اور مویشیوں کی خرید وفروخت تعداد میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلے کی سورت جائز ہے مثلاً: ایک عمدہ بھیڑ کے بدلے میں دو ادنی قسم کی بھیڑیں یا دو میمنے لینا یا دینا جائز ہے جبکہ زرعی اشیاء کا تبادلہ کمی بیشی کے ساتھ درست نہیں مثلاً: ایک من عمدہ گندم کاڈیڑھ من ہلکی قسم کی گندم سے تبادلہ درست نہیں۔( دیکھیے:سنن ابن ماجه حديث:٢٢٥٢) 3۔نبی ﷺ عالم الغیب نہیں تھے۔علم غیب صرف اللہ کی ذات ہے۔