Book - حدیث 2867

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابُ الْبَيْعَةِ صحیح حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيُّ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ أَمَّا هُوَ إِلَيَّ فَحَبِيبٌ وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ تِسْعَةً فَقَالَ أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَدْ بَايَعْنَاكَ فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ فَقَالَ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُوا الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَتَسْمَعُوا وَتُطِيعُوا وَأَسَرَّ كَلِمَةً خُفْيَةً وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أُولَئِكَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُهُ فَلَا يَسْأَلُ أَحَدًا يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ

ترجمہ Book - حدیث 2867

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل باب: بیعت کا بیان حضرت ابو مسلم(عبداللہ بن ثوبان خولانی) ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا:مجھے پیارے دیانتدار صحابی حضرت عوف بن مالک اشجعیؓ نے حدیث سنائی۔وہ مجھے پیارے تھے اور میری نظر میں دیانت دار تھے۔انھوں نے فرمایا: ہم سات یا آٹھ نو افرادنبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے۔آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اللہ کےرسول کی بیعت نہیں کرو گے؟ ہم نے ہاتھ بڑھا دیے۔ ایک صاحب نے عرض کیا:اللہ کے رسول ہم آپ کی بیعت کر چکے ہیں۔(اب)کس بات پر بیعت کریں؟آپ ﷺ نے فرمایا: اس بات پر کہ اللہ کی عبادت کرو گے اس کےساتھ کس کو شریک نہیں کروں گے پانچوں نمازیں قائم کرو گئے اور حکم سن کر مانو گئے۔پھر آہستہ سے ایک بات فرمائی: اور لوگوں سے کچھ نہیں مانگو گے۔ابو مسلم ﷫ نے فرمایا : میں نے ان میں سے ایک صاحب کو دیکھا کہ(سواری پربیٹھے ہوئے) ان کا کوڑا(ہاتھ سے چھوٹ کر) گر گڑ پڑتھا تو کسی کویہ نہیں کہتے تھےیہ کوڑا پکڑادیں۔(خوددسواری سے اتر کر اٹھالیتے تھے۔) 1۔حضرت ابومسلم ؒ کی اپنے استاد کی تعریف کرنے سے سلف صالحین میں استاد کے احترام اور ان کی محبت کے جذبات کا اظہار ہوتا ہے۔طالب علم کا اپنے استاد سے تعلق ایسا ہی ہونا چاہیے۔ 2۔بیعت اسلام یا بیعت خلافت کے علاوہ کسی نیک کام کے التزام یا گناہ سے اجتناب کے لیے بھی کسی نیک عالم کے ہاتھ بیعت کی جاسکتی ہے۔اس بیعت کی حیثیت محض ایک وعدے کی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وعدہ کرنے والے کے لیے نیکی پر قائم رہنے یا گناہ سے بچنے میں آسانی ہوتی ہے۔ 3۔مروجہ خانقاہی نظام میں بہت سی غیر شرعی اشیاء استعمال ہوچکی ہیں۔اس بیعت سے اس مکمل نظام کا جواز ثابت نہیں ہوتا۔ 4۔خود دا ری ایک مطلوب اسلامی وصف ہے۔