Book - حدیث 2865

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابُ لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ صحیح حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ح و حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيَلِي أُمُورَكُمْ بَعْدِي رِجَالٌ يُطْفِئُونَ السُّنَّةَ وَيَعْمَلُونَ بِالْبِدْعَةِ وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَدْرَكْتُهُمْ كَيْفَ أَفْعَلُ قَالَ تَسْأَلُنِي يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ كَيْفَ تَفْعَلُ لَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ

ترجمہ Book - حدیث 2865

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل باب: اللہ کی نا فرما نی کے کام میں کسی کی اطاعت جا ئز نہیں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا:میرے بعد کچھ ایسے لوگ بھی تمارے معاملات کے نگران (اور تمہارے حکمران ) ہوں گے جوسنت کی روشنی بجھائیں گے بدعت پرعمل پیرا ہوں گے اور نماز کو(افضل)وقت سے دیر کرکے پڑھیں گے-میں کہا اللہ کےرسول اللہ اگر میں انھیں پاؤں تو کیا کرو؟آپ نے فرمایا اے ام عبد کے بیٹے مجھ سے پوچھتے ہو کہ کیا کروگے؟جوشخص اللہ کی نافرمانی کر اس کی اطاعت نہیں۔ 1۔سنت کو چھوڑ کر بدعتوں پر عمل کرنا گمراہی ہے۔ 2۔اگر حکومتی ارکان بدعتوں کی ترویج کریں تو رعایا کو اس میں تعاون نہیں کرنا چاہیے۔علماء کو چاہیے کہ بدعت کی تردید کریں اور سنت سے روشناس کرائیں اور عوام کو چاہیے کہ بدعتوں سے بچتے ہوئے سنت پر عمل پیرا رہیں۔ 3۔علمائے حق کا ہر دور میں یہی شیوہ رہا ہے کہ وہ حکومتی گمراہیوں کے مقابلے میں سنت پر عمل کرنے اور اس کی اشاعت کرنے میں ثابت قدم رہتے ہیں۔اور ہر قسم کی سختیوں اور ترغیب و تحریص سے متاثر ہوئے بگیر حق کا اعلان کرتے ہیں جیسے امام مالک ؒ نے جبری طلاق کے مسئلے میں اور امام احمد بن حنبلؒ نے خلق قرآن کے مسئلے میں استقامت کا مظاہرہ فرمایا۔