Book - حدیث 2858

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابُ وَصِيَّةِ الْإِمَامِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا فَقَالَ اغْزُوا بِاسْمِ اللَّهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ اغْزُوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تَمْثُلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا وَإِذَا أَنْتَ لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنْ الْمُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِلَالٍ أَوْ خِصَالٍ فَأَيَّتُهُنَّ أَجَابُوكَ إِلَيْهَا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ وَأَخْبِرْهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ وَإِنْ أَبَوْا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا أَنْ يَدْخُلُوا فِي الْإِسْلَامِ فَسَلْهُمْ إِعْطَاءَ الْجِزْيَةِ فَإِنْ فَعَلُوا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ عَلَيْهِمْ وَقَاتِلْهُمْ وَإِنْ حَاصَرْتَ حِصْنًا فَأَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّكَ فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَلَا ذِمَّةَ نَبِيِّكَ وَلَكِنْ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ أَبِيكَ وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ فَإِنَّكُمْ إِنْ تُخْفِرُوا ذِمَّتَكُمْ وَذِمَّةَ آبَائِكُمْ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ وَإِنْ حَاصَرْتَ حِصْنًا فَأَرَادُوكَ أَنْ يَنْزِلُوا عَلَى حُكْمِ اللَّهِ فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ فِيهِمْ حُكْمَ اللَّهِ أَمْ لَا قَالَ عَلْقَمَةُ فَحَدَّثْتُ بِهِ مُقَاتِلَ بْنَ حَيَّانَ فَقَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ هَيْضَمٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ

ترجمہ Book - حدیث 2858

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل باب: اما م (خلیفہ ) کا (فوج کو روانہ کرتے وقت ) نصیحت کرنا حضرت سلیمان بن بریدہ ؓ اپنے والد(حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی ؓ) سے روایت کرتے ہیں انھوں نے فرمایا:رسول اللہﷺ جب کسی شخص کولشکر کا امیر مقرر فرماتے تو اسے خود اپنی ذات کے بارے میں اللہ سے ڈرنے کی نصیحت فرماتے اور ساتھ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اچھا سلوک کرنےوالے نصیحت کرتے۔رسول اللہﷺ(مجاہدین کو نصیحت کرتے ہوئے ) فرماتے تھے:اللہ مے نام سے اللہ کی راہ جہاد کرو۔اللہ مے ساتھ کفر کرنے والوں کے ساتھ جنگ کرو۔ جہاد کرواور(جہا د کے دوران میں ) عہدشکنی نہ کرنا خیا نت نہ کرنا۔(اور امیر لشکر کونصیحت فرماتے)جب تیرے مشرک دشمنوں سے تیرا سامنا ہو توانہیں تین باتوں کی دعوت دے۔وہ ان میں سے جوبات مان لیں اسے قبول کرکے ان سے ہاتھ روک لے(اور جنگ نہ کر۔)انھیں اسلام کی دعوت دے۔اگر وہ یہ بات مان لیں (اور مسلمان ہوجائیں)تو ان کایہ عمل قبول کرلے(انھیں مسلمان تسلیم کر لے)اور ان سے ہاتھ روک لے پھر انھیں دعوت دے کہ اپنے علاقے(دارلکفر) سے ہجرت کرکے مہاجرین کے علاقے(دارالسلام)میں آجائیں اور انہیں بتاکہ اگر وہ ہجرت کریں گے توانہیں مہاجرین والے حقوق حاصل ہوگےاور ان پر مہاجرین والے فرائض عائد ہوں گے۔اگر وہ(ہجرت سے)انکار کریں توانھیں بتادینا کہ انھیں اعرابی (خانہ بدوش) مسلمانوں والے حقوق حاصل ہوگئے۔ان پر اللہ کا وہ قانون نافذ ہوگاجو( عام )مومنین پر نافذ ہے۔اور انھیں مال فے اور مال غنیمت میں حصہ نہیں ملے گا سوائے اس صورت کے وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جنگ کریں۔(لیکن)اگر وہ لوگ اسلا م میں داخل ہونے سے انکار کردیں توان سے جزیہ کی ادئیگی کا مطالبہ کر اگروہ (یہ مطالبہ )تسلیم کرلیں تو ان سے (جزیہ ) منظور کرکےہاتھ روک لے۔اگروہ(جزیہ دینے سے بھی)انکار کریں توان کے خلاف اللہ سے مدد کی دعا کراور ان سے جنگ کر۔اگرکسی قلعے کا محاصرہ کرے وہ تجھ سے مطالبہ کریں کہ تو ان کے لیے اللہ کا اور اپنے نبی کا ذمہ دے(اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری پر امن دے)تو انھیں اللہ کا ذمہ نہ لینا اور اپنے نبی کاذمہ نہ دینابلکہ اپنا اور اپنے باپ کااور اپنے ساتھیو ں کاذمہ دیناکیونکہ اگر تم اپنا اور اپنے باپوں کا وعدہ دوگے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کاذمہ توڑ نے سے ہلکا گناہ ہوگا۔اگرتوقلعے کا محاصرہ کرے وہ اللہ کافیصلہ قبول کرتے ہوئے(قلعے سے)دست بردار ہونے پر رضامندی کا اظہار کریں توانھیں اللہ کے فیصلے پر دست بردار ہونے کومت کہہ بلکہ انھیں اپنا فیصلہ قبول کرنے(کامطالبہ کرتے ہوئے اسی شرط)پر دست بردار ہونے کا کہہ کیونکہ تجھے نہیں معلوم کہ تواللہ کے فیصلے کےمطابق (فیصلہ) کرسکے گا یا نہیں۔‘‘ حدیث کے روای حضرت علقمہ بن مرثد کہتے ہیں میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان کوبیان کی تو انھوں نے کہا :مجھے مسلم بن ہیضم نے نعمان بن مقرن کے واسطے سے نبیﷺ سے اسی طرح حدیث بیان کی ہے۔ 1۔امیر المومنین کو چاہیے کہ جہادی لشکر روانہ کرتے وقت ان سے خطاب کرے اور مناسب ہدایات دے۔ 2۔یوں تو تقوی اور اخلاص ہر عمل میں ضروری ہے لیکن جہاد میں اس کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے کیونکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں اللہ کے بندوں کی جانیں لی جاتی ہیں اور مال چھنتے ہیں۔اگر دوسروں کے جان ومال میں تصرف اللہ کی رضا کے لیے نہ ہوتواس سے بڑھ کر کوئی ظلم نہیں ہوسکتا۔ 3۔جہاد میں انسانوں کو قتل کرنا اصل مقصود نہیں بلکہ اصل مقصود لوگوں کو سچا دین قبول کرنے پر آمادہ کرنا یا اسے قبول کرنے والوں کی راہ سے رکاوٹیں دود کرنا ہے اس لیے اصل مقصود لوگوں کو سچا دین قبول کرنے پر آمادہ کرنا یا اسے قبول کرنے والوں کی راہ سے رکاوٹیں دور کرنا ہے اس لیے اگر کافر اسلام قبول کرلے تو یہ بھی درست ہے کیونکہ اس طرح وہ دوسروں کو اسلام قبول کرنے سے روکنے کی طاقت سے محروم ہوجاتا ہے۔ 4۔ہجرت کرنے والے مسلمان اور ہجرت نہ کرنے والے مسلمانوں میں بعض مسائل میں فرق ہے 5۔ہجرت غیر مسلموں کے علاقے سے مسلمانوں کی سلطنت کی طرف جاتی ہے۔ 6۔مجاہدین غیر مسلموں کو امان دے سکتے ہیں۔ 7۔امان دیتے وقت اپنی ذاتی ذمہ داری پر امان دینی چاہیے۔یہ کہنا درست نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری پر امان ہے۔ 8۔جنگ کے دوران میں دشمن کے قلعے کا محاصرہ کرنا درست درست ہے۔ 9۔اگر محصورین مسلمانوں کے امیر لشکر کا فیصلہ قبول کرنے اور ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہوں تو ان کا مطالبہ تسلیم کرکے ان کے ساتھ جنگی قیدی کی حیثیت سے مناسب معاملہ کرنا چاہیے۔ 10۔حالات کے مطابق جنگی قیدیوں کو فدیہ لے کر یا فدیہ رہا کرنا درست ہے۔