Book - حدیث 2846

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابُ فِدَاءِ الْأُسَارَى حسن حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ هَوَازِنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَّلَنِي جَارِيَةً مِنْ بَنِي فَزَارَةَ مِنْ أَجْمَلِ الْعَرَبِ عَلَيْهَا قَشْعٌ لَهَا فَمَا كَشَفْتُ لَهَا عَنْ ثَوْبٍ حَتَّى أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ لِلَّهِ أَبُوكَ هَبْهَا لِي فَوَهَبْتُهَا لَهُ فَبَعَثَ بِهَا فَفَادَى بِهَا أُسَارَى مِنْ أُسَارَى الْمُسْلِمِينَ كَانُوا بِمَكَّةَ

ترجمہ Book - حدیث 2846

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل باب: قیدیوں کا فدیہ حضرت سلمہ بن اکوعؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا:رسول اللہ ﷺکےزمانے میں حضرت ابوبکرؓ کی قیادت میں قبیلہ ہوازن سے جنگ کی (اور فتح پائی) انھوں نے بنوفزارہ کی ایک لڑکی انعام کے طور پرعطا فرمائی جوعرب کی انہتائی حسین عورتوں میں سے تھی۔اس نے پرانی پوستین اوڑھ رکھی تھی۔میں نے مدینہ پہنچ جانے تک اس کا کپڑا(اس کے جسم سے )ہٹاکربھی نہ دیکھا۔(مدینے میں)مجھے نبیﷺبازار میں ملے توفرمایا:تیرابھلا ہو یہ مجھے ہبہ کردو۔‘‘میں نے وہ رسول اللہﷺ کو ہبہ کردی۔آپ نے اسے(مکے) کر اس کے بدلے میں ان مسلمان قیدیوں کوچھڑالیا جومکے میں قید تھے۔ 1۔مال غنیمت تمام مجاہدین میں برابر تقسیم کیا جاتا ہے تاہم بہتر کارکردگی دکھانے والوں کو اس کے علاوہ بھی انعام دیا جاسکتا ہے اسے نفل کہتے ہیں۔ 2۔امام (خلیفہ یا کمانڈر) کسی مجاہد کو دیا ہوا انعام واپس لے سکتا ہے جب اسے واپس لینے میں کوئی بڑی مصلحت ہو۔ 3۔مسلمانوں قیدیوں کو چھڑانے کے لیے کافر قیدیوں کو آزاد کرنا جائز ہے یعنی مسلمانوں اور کافروں کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ شرعاً درست ہے۔