Book - حدیث 2753

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعَدَّ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا جِهَادٌ فِي سَبِيلِي وَإِيمَانٌ بِي وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ أَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتَّبِعُونِي وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ فَيَتَخَلَّفُونَ بَعْدِي وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ

ترجمہ Book - حدیث 2753

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل باب: اللہ کی راہ میں جہا د کی فضیلت حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے،رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتا ہے اللہ نے اس کے لیے ( یہ اجر و ثواب) تیار کیا (کہ وہ فرماتا ہے) یہ شخص صرف میری راہ میں جہاد کے لیے ، مجھ پر ایمان رکھتے ہوئے اور میرے رسولوں کی سچا مان کر نکلا ہے، اس لیے میں اسے ضمانت دیتا ہوں کہ یا اسے ( شہادت سے سرفراز کرکے) جنت میں داخل کروں گا، یا اسے حاصل ہونے والے ثواب یا غنیمت کے ساتھ، اسے اس کے گھر میں واپس پہنچا دوں گا جس سے وہ نکلا تھا۔‘ پھر فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میری وجہ سے مسلمانوں کو مشقت ( اورتکلیف) ہوگی، میں کبھی اللہ کی راہ میں نکلنے والے کسی جہادی دستے سے پیچھے نہ رہتا ، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ انہیں سواریاں مہیا کرسکوں۔ اور ان کے پاس اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ( اپنے خرچ پر) میرے ساتھ ( جہاد کے لیے) چلے جائیں، اور نہ مجھ سے پیچھے رہنے پر ان کے دل مطمئن ہوتے ہیں( اس لیے میں بھی بعض اوقات جہاد کےلیے جانے والے لشکر کے ساتھ نہیں جاتا۔) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدﷺ کی جان ہے ! مجھے تو یہ چیز محبوب ہے کہ میں اللہ کی راہ میں جنگ کرکے شہید ہوجاؤں ، پھر جنگ کروں اور شہید ہو جاؤں ، پھر جنگ کروں اور شہید ہو جاؤں۔ 1۔جس طرح ہر نیک عمل کی قبولیت کے لیے خلوص نیت شرط ہے۔اسی طرح جہاس فی سبیل اللہ کی قبولیت کے لیے بھی خلوص نیت شرط ہے۔ 2۔جہاد تمام رسولوں پر ایمان کا ثبوت ہے۔کیونکہ اس کا حکم تمام شریعتوں میں موجود رہاہے البتہ بعض انبیاء نے اس کی شرط پوری نہ ہونے کی وجہ سےجہاد بالسیف نہیں کیا۔ 3۔خلوص کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کا ثواب ہر صورت میں ملتا ہے خواہ مجاہد غنیمت حاصل کر کے خیریت سے گھر پہنچ جائے یا کافروں سے لڑتا ہوا شہید ہوکر جنت میں پہنچ جائے۔ 4۔بعض حالات میں جہاد فرض کفایہ ہوتا ہے۔اس صورت میں پیچھے رہنے والے گناہ گار نہیں ہوتے۔اگر کوئی حکمت پیش نظر ہو تو افضل کام چھوڑ کر دوسرا جائز کام کیا جاسکتا ہے۔ 5۔کسی جماعت کے سربراہ یا قوم کے قائد کو متعین کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے بشرطیکہ ناجائز کام کا ارتکاب نہ ہو۔ 6۔بات میں تاکید پیدا کرنے کے لیے اللہ کی قسم کھانا جائز ہے۔ 7۔قسم میں اللہ کے نام کے بجائےاس کی کسی سفت کا زکر کرنا بھی جائز ہے 8۔ناممکن کام کی تمنا جائز ہےجب کہ وہ نیکی سے تعلق رکھتا ہو۔ 9۔شہادت کا مقام اتنا عظیم ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم شہیدوں سے افضل ہونے کے باوجود یہ تمنا رکھتے تھےکہ انھیں شہادت کا مقام بھی حاصل ہو۔