Book - حدیث 2742

كِتَابُ الْفَرَائِضِ بَاب تَحُوزُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثَ مَوَارِيثَ ضعیف حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيُّ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيِّ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَرْأَةُ تَحُوزُ ثَلَاثَ مَوَارِيثَ عَتِيقِهَا وَلَقِيطِهَا وَوَلَدِهَا الَّذِي لَاعَنَتْ عَلَيْهِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ مَا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ هِشَامٍ

ترجمہ Book - حدیث 2742

کتاب: وراثت سے متعلق احکام ومسائل باب: عورت کو تین افراد کا ترکہ ملتا ہے حضرت واثلہ بن اسقع ؓ سے روایت ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا: عورت تین ترکے حاصل کرتی ہے۔ اپنے آزاد کردہ غلام کا، اس لاوارث بچے کا جسے اس نے پالا ہو، اوراپنے اس بچے کا جس پر اس نے لعان کیا ہو۔ محمد بن یزید نے کہا:اس روایت کو ہشام کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا۔ 1۔مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔ لقیط( گرے پڑے بچے) کے بارے میں اختلاف ہے کہ عورت لاوارث بچے کی وارث ہوگی یا نہیں، تاہم اپنے آزاد کردہ غلام اور لعان کردہ بچے کی وہ خود ہی وارث ہوتی ہے۔آزاد کردہ غلام کی وراثت سے متعلق دیکھئے ، حدیث :2734۔2۔ لعان کردہ بچےسے مراد وہ بچہ ہے جسے منکوحہ عورت سے نے جنم دیا ہو لیکن اس کا خاوند اسے اپنا بیٹا تسلیم کرنے سے انکار کردے اور قاضی کے سامنے گواہوں اور قسموں کے بعد ایک دوسرے پر لعان کریں۔اس صورت میں بچے کا تعلق اپنی ماں سے ہوتا ہے ، باپ (عورت کے خاوند) سے اس کا تعلق تسلیم نہیں کیا جاتا، اس لیے عورت اپنےاس بچے کی وارث ہوتی ہے۔ (مزید دیکھئے، حدیث :2069)