Book - حدیث 2737

كِتَابُ الْفَرَائِضِ بَابُ ذَوِي الْأَرْحَامِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الزُّرَقِيِّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَجُلًا رَمَى رَجُلًا بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ وَلَيْسَ لَهُ وَارِثٌ إِلَّا خَالٌ فَكَتَبَ فِي ذَلِكَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ إِلَى عُمَرَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ

ترجمہ Book - حدیث 2737

کتاب: وراثت سے متعلق احکام ومسائل باب: ذوی الارحام کابیان حضرت ابوامامہ اسعدبن سہل بن حنیف ؓ سےروایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو تیر مار کر قتل کردیا ۔ مقتول کا ایک ماموں کے سوا کوئی وارث نہ تھا۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراح ﷜ نے حضرت عمرؓ کو خط لکھ کر یہ مسئلہ دریافت فرمایا تو حضرت عمر ؓ نے ( جواب میں) خط لکھا کہ نبیﷺ نے فرمایا ہے:’ جس کا کوئی مولیٰ نہ ہو، اللہ اوراس کا رسول اس کا مولیٰ ہے۔اور جس کا کوئی وارث نہ ہو، ماموں اس کا وارث ہے۔‘ 1۔مولیٰ آزاد کردہ غلام کو بھی کہتے ہیں اور آزاد کرنے والے کو بھی۔ اس تعلق کی بنا پروراثت کا مسئلہ پہلے گزر چکا ہے۔ (دیکھئے حدیث:2732) اگرکسی آزاد ہونے والے کی وفات کے بعداس کے آزاد کرنے والوں میں سے کوئی موجود نہ ہو تو ترکہ بیت المال میں جمع ہو جائے گا، جس طرح کسی بھی لا وارث شخص کا ترکہ بیت المال کے لیے ہوتا ہے ۔2۔ جس کے وارثوں میں کوئی اصحاب الفروض یا عصبہ موجود نہ ہو تو اس کا ترکہ ذوی الارحام میں تقسیم ہوگا۔ 3۔ وارثوں کی تین قسمیں ہیں۔(ا) اصحاب الفروض: وہ ورثاء جن کا حصہ قرآن و حدیث میں مقرر کردیا گیا ہے۔ یہ کل بارہ افراد ہیں،چھ مردوں میں سے اور آٹھ عورتوں میں سے جو کہ درج ذیل ہیں:1۔ خاوند۔2۔ باپ۔3۔ دادا۔4۔ مادری بھائی۔ 5۔ بیوی۔6۔ ماں۔ 7۔ دادی ونانی۔8۔ بیٹی۔9۔ پوتی پڑپوتی۔10۔ حقیقی بہن۔ 11۔ پدری بہن۔12۔ مادری بہن۔ (ب) عصبہ: میت کے وہ قریبی رشتہ دار جن کے حصے متعین نہیں ہیں بلکہ اصحاب الفروض سے بچا ہوا ترکہ لیتے ہیں، نیز ان کا تعلق میت سے کسی عورت کے واسطے سے نہیں ہوتا، مثلاً: چچا(باپ کا بھائی) ، بھتیجا(بھائی کا بیٹا) ، چچازاد بھائی (باپ کے بھائی کا بیٹا) ان مثالوں میں میت سے تعلق مردوں ہی کے ذریعے سے قائم ہوا ہے۔ (ج) ذوی الارحام: میت کے وہ قریبی رشتے دار جو اصحاب الفروض یا عصبات میں سے نہ نہوں اور ان کا تعلق عورت کے واسطے سے ہو ، مثلاً: ماموں( ماں کا بھائی) ، بھانجا( بہن کا بیٹا)، نانا( ماں کا باپ)، نواسا( بیٹی کا بیٹا) ان مثالوں میں وارث اور میت کا تعلق ایک عورت (ماں، بہن یا بیٹی وغیرہ) کے ذریعے قائم ہورہا ہے۔ عصبہ کی عدم موجودگی میں یہ وارث ہوتے ہیں۔