Book - حدیث 2726

كِتَابُ الْفَرَائِضِ بَابُ الْكَلَالَةِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَامَ خَطِيبًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ خَطَبَهُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَدَعُ بَعْدِي شَيْئًا هُوَ أَهَمُّ إِلَيَّ مِنْ أَمْرِ الْكَلَالَةِ وَقَدْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا أَغْلَظَ لِي فِي شَيْءٍ مَا أَغْلَظَ لِي فِيهَا حَتَّى طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي جَنْبِي أَوْ فِي صَدْرِي ثُمَّ قَالَ يَا عُمَرُ تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي نَزَلَتْ فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ

ترجمہ Book - حدیث 2726

کتاب: وراثت سے متعلق احکام ومسائل باب: کلالہ کی میراث معدان بن ابو طلحہ یعمری ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ جمعے کے دن خطبہ دینے کھڑے ہوئے، یا راوی نے کہا: انہوں نے جمعے کے دن خطبہ دیا۔ آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان فرمائی، پھر فرمایا: قسم ہے اللہ کی! میں اپنے بعد کلالہ کے مسئلے سے زیادہ پریشان کن مسئلہ چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ( یہ مسئلہ) دریافت کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے کسی معاملے میں مجھے ایسا سخت جواب نہیں دیا جیسا اس مسئلے میں ناگواری کا اظہار فرمایا۔ حتی کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے پہلو یا سینے میں انگلی مار کر فرمایا: ’’اے عمر تجھے موسم گر میں نازل ہونے والی آیت کافی ہے جو سورہٴ نساء کے آخر میں نازل ہوئی۔‘‘ 1۔کلالہ سے مراد وہ میت ہے جس کےماں باپ بھی نہ ہوں او راولاد بھی نہ ہو۔اس کی وراثت اس کے بھائی بہنوں میں تقسیم ہوگی۔2۔ موسم گرمامیں نازل ہونے والی آیت سے مراد سورۂ نساء کی آیت 176 ہے۔ اس میں یہ مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر مرنے والے کلالہ مرد کی ایک حقیقی( ماں اور باپ دونوں میں شریک ) بہن ہو، یا ایک علاتی( باپ شریک) بہن ہوتو اسے اپنے بھائی کا نصف ترکہ ملے گا ، البتہ مرنے والی کلالہ عورت کا ایک بھائی نو تو اسے پورے کا پوراترکہ مل جائے گا۔3۔ اسی آیت میں ہے کہ اگر کلالہ کی دو حققی یا علاتی بہنیں ہوں تو انہیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے گا۔4۔ اگر کلالہ میت کے وارث حقیقی یا علاتی بھائی بھی ہوں اور بہنیں بھی تو ترکہ ان میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ ہر بھائی کو بہن سے دگنا ملے گا۔5۔ اخیافی (ماں شریک) بھائی یا بہن کا حکم یہ ہے کہ اگر میت کا ایک ہی اخیافی بھائی یا بہن ہو تو اسے ترکے کا چھٹا حصہ دیا جائے گا۔ اوراگر دو بھائی یا دو بہنیں یا ایک بھائی اور ایک بہن یا دو سے زیادہ بھائی بہنیں ہوں تو ترکے کا ایک تہائی حصہ ان سب میں برابر تقسیم کیا جائے گا۔ اس صورت میں بھائی کا حصہ بہن سے دگنا نہیں ہوگا۔ النساء، آیت:12 فوائد ومسائل:1۔مذکورہ روایت ضعیف ہے جیسا کہ محققین نے کہا ہے ، تاہم بخاری و مسلم میں حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے کلالہ اور سود کا ذکر ملتا ہے، خلافت کا نہیں، لہذا مذکورہ روایت بیان کردہ دوباتوں کی توثیق و تائید صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات سے ہوجاتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت ’خلافت‘ کے ذکر کے علاوہ قابل عمل اور قابل حجت ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے مذکورہ حدیث کی تحقیق و تخریج۔2۔ کلالہ کے بھائی بہن تین طرح کے ہوسکتے ہیں: (ا) حقیقی(ب)علاتی(ج)اخیافی۔پہلے دو طرح کے بھائی بہنوں کا حکم سورۂ نساء کی آیت176 میں بیان کردیا گیا ہے اور تیسری قسم کے بہن بھائیوں کا حکم سورۂ نساء کی آیت 12میں بیان کردیا گیا ہے۔