Book - حدیث 2698

كِتَابُ الْوَصَايَا بَابُ هَلْ أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِﷺ صحیح حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ أُمِّ مُوسَى عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ كَانَ آخِرُ كَلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ

ترجمہ Book - حدیث 2698

کتاب: وصیت سے متعلق احکام ومسائل باب: کیارسول اللہًﷺنےوصیت فرمائی تھی؟ علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کا آخری کلام یہ تھا: ’’نماز اور تمہارے مملوک۔‘‘ 1۔مذکورہ دونوں روایتوں کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے انہیں صحیح قراردیا ہے۔ الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الامام احمد کے محققین نے ان پر تفصیلی بحث کی ہے، اس تفصیلی بحث سے تصحیح حدیث کی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے، لہذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہے ۔ تفصیل کے لیے دیکھئے: (الارواء للالبانی، رقم : 2178، وفقہ السیرۃ:501، والموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الامام احمد:2؍24، 25، 19؍209، 210،211)۔2۔ اسلام میں سب سے زیادہ اہمیت نماز کی ہے ، اس لیے رسول اللہﷺ نے دنیا سے رخصت ہوتے وقت بھی نماز کی تاکید فرمائی۔3۔ غلاموں کا طبقہ معاشرے کا ایک مظلوم طبقہ تھا جسے اسلام نے اتنی عزت دی کہ غلام بڑے بڑے عہدوں تک پہنچے۔ خاندان غلاماں کی بادشاہت برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کاایک روشن باب ہے۔ 4۔ یہ رسول اللہﷺ کی آخری وصیت تھی۔ نبی ﷺ کی زبان مبارک کے آخری الفاظ یہ تھے۔(اللهم الرفيق الاعلى) ’’ اے اللہ!بلند مرتبہ ساتھیوں سے ملا دے٭‘‘ ( صحیح البخاری ، المغازی، باب آخر ماتکلم بہ النبیﷺ ، حدیث:4462) 5۔ جس طرح ہم خاندانی معاملات کے بارے میں وصیت کرتے ہیں اسی طرح دین کے احکام پر عمل کرنے کی بھی وصیت کرنی چاہیے۔6۔ رسول اللہ ﷺ کی یہ وصیت دین اور دنیا دونوں سے تعلق رکھتی ہے۔ اسلام میں دونوں کو برابر اہمیت حاصل ہے۔