Book - حدیث 2683

كِتَابُ الدِّيَاتِ بَابُ الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ وَيُرَدُّ عَلَى أَقْصَاهُمْ

ترجمہ Book - حدیث 2683

کتاب: دیتوں سے متعلق احکام ومسائل باب: سب مسلمانوں کاخون برابرہے عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ’’مسلمانوں کے خون باہم ہم مرتبہ ہیں۔ وہ دوسروں ( غیر مسلم دشمنوں) کے خلاف ایک ہاتھ کی طرح ہیں۔ ان کا ادنیٰ بھی معاہدے کی ذمے داری اٹھا سکتا ہے۔ مسلمانوں کو وہ (مجاہد) بھی غنیمت ادا کرے گا جو سب سے دور ( اور دشمن سے بالکل قریب ) ہے۔‘‘ 1۔ خون برابر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ قصاص اور دیت کے معاملات میں کسی ادنیٰ اور اعلیٰ کافرق نہیں، نہ قبائل کے لحاظ سے ، نہ غریب امیر ہونے کے لحاظ سے ۔ سب کے حقوق برابر ہیں۔ اسی طرح بچہ اور بڑا بھی ایک ہی حکم میں ہے۔2۔ مسلمانوں کو دشمن کے خلاف بالکل متحد ہونا چاہیے ورنہ پوری قوم کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔3۔مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کی مددکرنی چاہیے۔اور کسی مسلمان کو دشمن سے میل جول نہیں رکھنا چاہیے۔4۔ اگر کسی غیرمسلم کو ایک ادنیٰ مسلمان بھی امان دے دے تو سب مسلمانوں کے لیے اس کی پابندی ضروری ہے۔5۔ کوئی مجاہد غنیمت کا مال خود ہی اپنے پاس نہیں رکھ سکتا بلکہ اسے چاہیے کہ غنیمت کم ہویا زیادہ امیر لشکر کے پاس جمع کرائے ، پھر اپنے حصے کے مطابق وصول کرے۔ یہ نہ سوچے کہ امیر دور ہے، اور اگر وہاں یہ تھوڑی سی چیز پہنچاؤں گا توہوسکتا ہے یہ میرے حصے ہی میں آجائے ، لہذا میں اسے امیر کے پاس جمع نہیں کراتا، اپنے پاس ہی رکھ لیتا ہوں ۔ ایسے نہ کرے بلکہ اصول کی پابندی کرے۔