Book - حدیث 2614

كِتَابُ الْحُدُودِ بَابُ الْمُخَنَّثِينَ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَمِعَ مُخَنَّثًا وَهُوَ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ إِنْ يَفْتَحْ اللَّهُ الطَّائِفَ غَدًا دَلَلْتُكَ عَلَى امْرَأَةٍ تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ

ترجمہ Book - حدیث 2614

کتاب: شرعی سزاؤں سے متعلق احکام ومسائل باب: ہیجڑوں کا بیان ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ان کے ہاں تشریف لائے تو سنا کہ ایک مخنث حضرت عبداللہ بن ابی امیہ ؓا سے کہہ رہا تھا: اگر کل اللہ تعالیٰ نے طائف میں فتح نصیب فر دی تو میں تجھے ایک عورت دکھاؤں گا جو آتی ہے تو جسم میں چار بل پڑتے ہیں اور جاتی ہے تو آٹھ بل پڑتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: انہیں اپنے گھروں سے نکال دیا کرو۔ (1)مخنث سے مراد وہ انسان ہے جس کے صنفی اعضاء میں مردو اورعورتوں دونوں کے مشابہت پائی جاتی ہے۔ایسا شخص شادی شدہ زندگی گزرارنے کے قابل نہیں ہوتا نہ بحثیت مرد نہ بحثیت عورت کےاگر ایک صنف سے مشابہت زیادہ ہوتو اس صنف میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ (2)عرب میں ایسے افراد مردوں کی طرح لباس پہنتے اور مردو کی طرح گھر سے باہر کام کرتے ہیں۔ (3)ان میں جو شخص عورتو ں کے خاص معاملات میں دلچسپی رکھتا ہواس سے پردہ کرنا چاہیے۔ (4)ان میں سے جو شخص کوصنفی معاملات سے دلچسپی نہ صرف کھانے پینے کا خیال ہوا انھیں (غَيْرِ‌ أُولِي الْإِرْ‌بَةِ مِنَ الرِّ‌جَالِ) (النور 31:18) یعنی خواہش نہ رکھنےوالے مردوں میں شمار کیا جاسکتا ہے ان سے عورتوں پر دہ فرض نہیں ہے۔