Book - حدیث 2610

كِتَابُ الْحُدُودِ بَابُ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ صحیح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا وَأَبَا بَكْرَةَ وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَقُولُ سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَى قَلْبِي مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ

ترجمہ Book - حدیث 2610

کتاب: شرعی سزاؤں سے متعلق احکام ومسائل باب: اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کرنا ‘ یا اپنے آزاد کرنے والے کے علاوہ کسی اور کو مولیٰ ( آزاد کرنے والا) قرار دینا حضرت سعد اور حضرت ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے، ان دونوں میں سے ہر ایک نے فرمایا: میرے کانوں نے حضرت محمد ﷺ سے یہ ارشاد مبارک سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا کہ آپ ﷺ فر رہے تھے: جو شخص جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنی نسبت کرتا ہے، اس پر جنت حرام ہے۔ (1)نسبت کے ثبوت پربہت معاملات کااانحصار ہےمثلا: (ا)محرم نامحرم کی پہچان۔ (ب)وارثت کی تقسیم وغیرہ اس لیے شریعت اسلامیہ نسب کی حفاظت کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ (2)آزاد کرنے اور ہونے والے کے درمیان جو تعلق قائم ہوتا ہے اسےولاء کہتے ہیں اس پر بعض شریعی مسائل کا انحصار ہے مثلا:نسبی وارثوں کسی غیر موجوگی میں وراثت کی تقسم وغیرہ۔ (3)نسب اور ولاء کا جوتعلق قدرتی طور پرقائم ہوگیاہے اس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی اس لیے شریعت میں منہ بولے بیٹے یا بھائی وغیرہ جیسے مصنوعی رشتوں کی قانونی اورشریعی حیثیت نہیں۔ (4) باپ کےسوا کسی اور کو والدقراردینا حرام ہے البتہ احترام کے طورپرکسی کوچچا کہہ دینا پیار سے کسی کو بیٹا کہہ دینا اس میں شامل نہیں۔حرمت اس وقت ہےجباس مصنوعی رشتوں کو اصلی رشتے کا مقام دینے کی کوشش کی جائے۔ (5)آزاد غلام کےلیے جائز نہیں کہ کسی اور قبیلے سے تعلق قائم کرنے کےلیے اس قبیلے کے کسی فردکو اپناآزاد کرنے والاقرار دے۔اس می وجہ سے بعض شرعی معاملات مین مشکل پیش آسکتی ہےاس کے علاوہ یہ ایک بڑی فراموشی بھی ہے۔