Book - حدیث 2579

كِتَابُ الْحُدُودِ بَابُ مَنْ حَارَبَ وَسَعَى فِي الْأَرْضِ فَسَادًا صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ قَوْمًا أَغَارُوا عَلَى لِقَاحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ

ترجمہ Book - حدیث 2579

کتاب: شرعی سزاؤں سے متعلق احکام ومسائل باب: بغاوت او رفساد پھیلانے کی سزا ام المومنین حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی دودھ والی اونٹنیاں لوٹ لیں تو نبی ﷺ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے، اور لوہے کی گرم سلائیوں سے ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ (1)بیت المال کے جانوروں سے ضرورت مند مسلمان فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ (2)جن جانور کا گوشت کھانا جائز ہے ان کا پیشاب پینا علاج کے طور پر جائز ہے۔ (3)مرتد کی سزا موت ہے۔ (4)ان مجرموں نے متعدد جرائم کا ارتکاب کیا تھا: (ا)اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگئے تھے۔ (ب)ڈاکہ ڈالا تھا۔ (ج)قتل کاارتکاب کیا ۔ (و)چرواہوں کی آنکھیں گرم سلائیوں سے پھوڑ کربری طرح قتل کیا تھا‘ اس لیے قصاص کے طور پر ان کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا۔