Book - حدیث 2562

كِتَابُ الْحُدُودِ بَابُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ حسن حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ قَالَ ارْجُمُوا الْأَعْلَى وَالْأَسْفَلَ ارْجُمُوهُمَا جَمِيعًا

ترجمہ Book - حدیث 2562

کتاب: شرعی سزاؤں سے متعلق احکام ومسائل باب: حضرت لوط ﷤ کی قوم والا جرم کرنے والے کی سزا حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اس شخص کے بارے میں، جو حضرت لوط علیہ السلام کی (بدکار) قوم والی حرکت کرتا ہے، فرمایا: اوپر والے اور نیچے والے کو سنگسار کر دو۔ ان دونوں کو سنگسار کر دو۔ (1)مردکا مردسے جنسی عمل بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے۔اس کی شناعت عام زناسے بڑھ کرہے۔ (2)عام لوگ اس قسم کی بدکاری کو گ‎’’لواطت ‘‘کانام دیتے ہیں جومناسب نہیں ہےکیونکہ یہ لفظ حضرت لوط جیسے پاکبازنبی کے نام سے بنایاگیاہےحلانکہ وہ اس جرم سے اجتناب کی تبلیغ کرتے تھے۔اور انہوں نے اپنی گندی بداکار قوم کو اس گندی اوربری حرکت سے بڑی سختی سے منع کیاتھا اس لیے اسے’’قوم لوط کاعمل‘‘کہناچاہیےیا ان لوگوں کے لیے شہرسدوم کی طرف نسبت کرکے گ‎’’سدومیت ‘‘کہا جائے جیسا کہ انگریزی میں اسے اسی نام()موسوم کیاگیا ہے۔اردومیں آج کل’’غیر فطری فعل کی اصطلاح بھی مستعمل ہےبہر حال اسے لواطت کانام دینامناسب نہیں۔ (3)اس جرم کی سزا موت ہے۔اورشادی شدہ یا غیر شادی کافرق نہیں۔