Book - حدیث 2553

كِتَابُ الْحُدُودِ بَابُ الرَّجْمِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَطُولَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ حَتَّى يَقُولَ قَائِلٌ مَا أَجِدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ أَلَا وَإِنَّ الرَّجْمَ حَقٌّ إِذَا أُحْصِنَ الرَّجُلُ وَقَامَتْ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ حَمْلٌ أَوْ اعْتِرَافٌ وَقَدْ قَرَأْتُهَا الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ

ترجمہ Book - حدیث 2553

کتاب: شرعی سزاؤں سے متعلق احکام ومسائل باب: سنگسار کرنا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا: مجھے خطرہ ہے کہ لوگوں پر کچھ طویل عرصہ گزرنے پر کوئی شخص یہ بھی کہنے لگے گا: مجھے اللہ کی کتاب (قرآن مجید) میں رجم کا ذکر نہیں ملتا۔ اس طرح وہ لوگ اللہ کا ایک فریضہ ترک کرنے کی وجہ سے گمراہ ہو جائیں گے۔ سنو! رجم حق ہے جب کہ مرد شادی شدہ ہو اور گواہی ثاب ہو جائے، یا حمل یا اعتراف موجود ہو۔ میں نے یہ آیت پڑھی: (الشيخ والشيخة اذا ذنيا فارجموه البتة) بڑی عمر کا مرد اور بڑی عمر کی عورت جب بدکاری کریں تو انہیں ضرور رجم کر دو۔ رسول اللہ ﷺ نے (اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو) رجم کی سزا دی تھی اور رسول اللہ ﷺ کے بعد ہم نے بھی رجم کی سزا دی۔ (1)رجم کا مطلب یہ ہے کہ اگرزناکا مجرم مرد ہویا عورت شادی شدہ ہوتواسے پتھر مار مار کر ہلا ک کردیا جائے ۔ (2)زنا کے مجرم کےلیے رجم کا حکم سابقہ شریعتوں میں بھی موجود تھا ۔بائبل کے موجودہ نسخوں میں بھی زانی کے لیے سزائے موت کا حکم موجود ہے۔(دیکھیے کتاب احبار باب 20 فقرہ:10) (3)قرآن مجید میں بعض آیات یا ان کے احکام منسوخ ہوئےہیں۔زیر مطالعہ حدیث میں مذکور آیت کی تلاوت منسوخ ہے اور حکم باقی ہے۔ (4)زنا جرم تین طرح ثابت ہوتا ہے: (1)چار چشم دید گواہوں کی گواہی۔ (2)مجرم کے اقرار جرم سے۔ (3)غیر شادی شدہ عورت کو حمل ہوجانے سے البتہ غیرشادی شدہ مجرم کو سنگسار نہیں کیا جائے گا بلکہ سوکوڑے کی سزا دی جائے گی۔