Book - حدیث 2538

كِتَابُ الْحُدُودِ بَابُ إِقَامَةِ الْحُدُودِ حسن حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يَزِيدَ قَالَ أَظُنُّهُ عَنْ جَرِيرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدٌّ يُعْمَلُ بِهِ فِي الْأَرْضِ خَيْرٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنْ أَنْ يُمْطَرُوا أَرْبَعِينَ صَبَاحًا

ترجمہ Book - حدیث 2538

کتاب: شرعی سزاؤں سے متعلق احکام ومسائل باب: حدیں جاری کرنا حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زمین میں ایک (مجرم کو) حد لگانا زمین والوں کے لیے چالیس دن بارش برسنے سے بہتر ہے۔ (1)’’حد‘‘سے مراوخاص جرائم کی وہ سزائیں جواللہ کی طرف سے مقرر کردی گئی ہےمثلا:چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا یا قتل کی سزا قصاص ہے۔ان میں کمی بیشی جائز نہیں۔ ان کے علاوہ دوسرے جرائم کی سزا تعزیر کہلاتی ہےاس میں قاضی کو رائے دخل ہے وہ جرم کی نوعیت کے مطابق مناسب سزادے سکتا ہے۔ (2)حدودتعزیر کا مقصد یہ ہے کہ دوسرے لوگ عبرت حاصل کریں اور اس جرم سے اجتناب کریں اس لیے حدودکے نفاذ سے معاشرے میں امن قائم ہوتا ہے اور ملک میں انصاف اورامن ہرقسم کی برکات کا باعث ہے۔ (3)برکات کو بارش سے تشبیہ دی گئی ہے جوعرب کے صحرائی علاقے میں بہت بڑی نعمت اور رحمت شمارہوتی ہے۔ (4)مذکورہ دونوں روایتوں کو ہمارے فاضل محقق نے ضعیف کہا ہے جبکہ شیخ البانی﷭ نے دیگرشواہد کی بناپر ان کو حسن کہا ہے۔دیکھیے:(الصحیحۃ‘رقم:231)