Book - حدیث 2527

كِتَابُ الْعِتْقِ بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ أَوْ شِقْصًا فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ مِنْ مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ فِي قِيمَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ

ترجمہ Book - حدیث 2527

کتاب: غلام آزاد کرنے سے متعلق احکام ومسائل باب: مشترک غلام میں سے جو اپنا حصہ آزاد کر دے حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے غلام میں سے اپنا حصہ یا فرمایا: ایک حصہ آزاد کر دیا تو اگر اس کے پاس مال ہے تو اس پر لازم ہے کہ اپنا مال خرچ کر کے (دوسرے شریکوں کو ان کا حصہ دے کر) اسے آزادی دلائے۔ اگر اس (آزاد کرنے والے) کے پاس (اتنا) مال نہ ہو تو غلام سے اس کی قیمت کے لیے مزدوری کرائی جائے گی لیکن اس پر (اس کی طاقت سے) زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ (1)ایک غلام ایک سے زیادہ افرد کا مملوک ہوسکتا ہے مثلا:ایک شخص کے پاس ایک غلام تھا وہ فوت ہواتو اس کے دو بیٹے اس وارث ہوگئے یہ ونوں اس کی ملکیت میں برابر شریک ہیں۔یا چند افرادنے رقم ملا کرخریدلیا تو یہ ان کی مشترکہ ملکیت ہوں گا۔ (2)مشترکہ غلام کا ایک مالک اپنا حصہ آزاد کردے توباقی حصہ خود بخود آزاد نہیں ہوگا۔ (3)اس صورت میں آزاد کرنے والے کو چاہیے کہ غلام کی جائز قیمت میں سے اس کے شریکو ں کا جو حصہ ہے انھیں ادا کرکے غلام کاباقی حصہ بھی خرید کر آزادکردے تاکہ غلام کی آزادی مکمل کی ہوجائے۔ (4)دوسری صورت یہ ہے کہ اس آدھے غلام کو موقع دیاجائے کہ وہ کماکراپنی آدھی قیمت اپنے مالک کو ادا کردے جس نے اپنے حصے کا غلام آزاد نہیں کیا۔ (5)اس غلام پر جلدآدائیگی کےلیے ناجائز سختی کرنا منع ہے بلکہ جس طرح مقروض کو مہلت دی جاتی ہے اسے بھی مناسب مہلت دی جائے۔