Book - حدیث 2503

كِتَابُ اللُّقَطَةِ بَابُ ضَالَّةِ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ ضعيف - والمرفوع صحيح - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ خَالُ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي بِالْبَوَازِيجِ فَرَاحَتْ الْبَقَرُ فَرَأَى بَقَرَةً أَنْكَرَهَا فَقَالَ مَا هَذِهِ قَالُوا بَقَرَةٌ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ قَالَ فَأَمَرَ بِهَا فَطُرِدَتْ حَتَّى تَوَارَتْ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُؤْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ

ترجمہ Book - حدیث 2503

کتاب: گم شدہ چیز ملنے سے متعلق احکام ومسائل باب: گم شدہ اونٹ ‘ گائے اور بکری کاحکم حضرت منزر بن جریر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں مقام بوازیج پر اپنے والد (حضرت جریر بن عبداللہ بجلی ؓ) کے ساتھ تھا کہ گائیں (چراگاہ سے واپس) آئیں۔ انہیں (ریوڑ میں) ایک گائے نظر آئی جو انہیں اجنبی محسوس ہوئی (محسوس ہوا کہ ہماری نہیں) تو انہوں نے فرمایا: یہ کیسی گائے ہے؟ حاضرین نے کہا: (کسی کی) گائے (ہماری) گایوں کے ساتھ مل کر آ گئی ہے۔ حضرت جریر ؓ کے حکم سے اس کو ہانک دیا گیا حتی کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گئی، پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ نے فرمایا: بھٹکے ہوئے (گم شدہ) جانور کو (اپنے ریوڑ میں) وہی جگہ دیتا ہے جو بھٹکا ہوا (گمراہ) ہے۔ 1۔یہ حکم بڑے جانوروں مثلا اونٹ اور گائے وغیرہ کےبارےمیں ہے ۔ چھوٹے جانور (بھیڑ بکر وغیرہ ) کوپکڑ لینا چاہیے تاکہ جنگل میں کوئی بھیڑ یا وغیرہ نہ کھا جائے جیسے اگلی حدیث میں آرہا ہے ۔ 2۔ یہ توبیخ اس شخص کےلیے ہے جو جانور کواس لیے پکڑتا ہے کہ اس کااعلان نہ کرے بلکہ قبضہ کر لے اگر وہ جانور کےمالک کی تلاش کاارادہ رکھتاہے توکوئی حرج نہیں ۔ صحیح مسلم میں یہ حدیث ان الفاظ سےآئی ہے جو بھٹکے ہوئے جانور کوجکہ دیتاہے وہ گمراہ ہے جبکہ اس کا اعلان نہ کرے ۔ (صحیح مسلم اللقطۃ باب فی لقطۃ الحاج حدیث :1725)