Book - حدیث 2466

كِتَابُ الرُّهُونِ بَابُ مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ صحیح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَيْسَ لَهُ مِنْ الزَّرْعِ شَيْءٌ وَتُرَدُّ عَلَيْهِ نَفَقَتُهُ

ترجمہ Book - حدیث 2466

کتاب: رہن ( گروی رکھی ہوئی چیز) سے متعلق احکام ومسائل باب: کسی کی زمین میں بلا اجازت کاشت کرنا حضرت رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کچھ لوگوں کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر فصل کاشت کر لی تو اسے اس فصل میں سے کچھ نہیں ملے گا، اور اس کا خرچ اسے واپس کر دیا جائے گا۔ 1۔ مذکورہ روایت کوہمارے فاضل محقق نےسندا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیاہے لہذا مذکورہ روایت سندا ضعیف ہونے کےباوجود قابل عمل اورقابل حجت ہے ۔ مزید تفصیل کےلیے دیکھیے :(الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الامام احمد :25 ؍138۔142 والاراواء للالبانی رقم :1519الضعیفۃ 1:141حدیث :88) 2۔ جس طرح کسی کوکاشت کےلیے بلامعاوضہ زمین عاریتا دے دینا بڑے ثواب کاکام ہے اسی طرح کسی کی زمین پراس کی اجازت کےبغیر فصل کاشت کرلینا بڑا گناہ ہے ۔اگر ایک آدمی دوسرے کی زمین میں بلااجازت کاشت کرے تواس کی سزا یہ ہے کہ وہ پیداوار زمین کے مالک کودے دی جائے۔ 3۔ اس صورت میں کاشت کرنے والے کوصرف اس کاخرچ واپس کیاجائے گا مثلا بیج اورکھاد کی قیمت یااگر کرائے پرٹریکٹر لے بل چلایا ہے توٹریکٹر کاکرایہ وغیرہ۔ اس کی محنت کااسے کوئی معاوضہ نہیں دیا جائے گا۔ یہ اس کی سزا ہے کہ اسے نہ فصل ملے اورنہ اس کی محنت کامعاوضہ۔