Book - حدیث 2460

كِتَابُ الرُّهُونِ بَابُ مَايُكْرَهُ مِنَ الْمُزَارَعَةِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ ابْن أَخِي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ كَانَ أَحَدُنَا إِذَا اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ أَعْطَاهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ وَاشْتَرَطَ ثَلَاثَ جَدَاوِلَ وَالْقُصَارَةَ وَمَا يَسْقِي الرَّبِيعُ وَكَانَ الْعَيْشُ إِذْ ذَاكَ شَدِيدًا وَكَانَ يَعْمَلُ فِيهَا بِالْحَدِيدِ وَبِمَا شَاءَ اللَّهُ وَيُصِيبُ مِنْهَا مَنْفَعَةً فَأَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا وَطَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ أَنْفَعُ لَكُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاكُمْ عَنْ الْحَقْلِ وَيَقُولُ مَنْ اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَدَعْ

ترجمہ Book - حدیث 2460

کتاب: رہن ( گروی رکھی ہوئی چیز) سے متعلق احکام ومسائل باب: ناپسندیدہ مزارعت کا بیان حضرت رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم میں سے کسی کو جب اپنی زمین کی ضرورت نہ ہوتی تو وہ اسے تہائی، چوتھائی یا نصف پیداوار کے عوض (کسی کاشت کے لیے) دے دیتا اور شرط لگا لیتا کہ ندی کے قریب والی زمین (کی پیداوار) میں سے تین چوتھائی، اور گاہی ہوئی گندم کی (گاہے جانے سےبچ رہنے والی) بالیاں، اور (پانی کی چھوٹی) نالی سے سیراب ہونے والی زمین (کی پیداوار) اس کی ہو گی۔ اس زمانے میں گزران بہت مشکل تھی اور زمین میں لوہے (کے آلات کسی اور پھاوڑے وغیرہ) سے اور جیسے اللہ کو منظور ہوتا، سے کام ہوتا تھا۔ وہ اس سے کچھ نفع ک لیتا تھا۔ پھر ہمارے پاس حضرت رافع بن خدیج ؓ آئے اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے تمہیں ایک کام سے منع فر دیا ہے جس میں (بظاہر) تمہارا فائدہ تھا۔ (لیکن) اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں تمہارا زیادہ فائدہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ تمہیں محاقلہ سے منع فرماتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں: جس کو زمین کی ضرورت نہ ہو تو وہ اپنے بھائی کو عطیہ کے طور پر دے دے، یا رہنے دے۔ 1۔ اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ نصف یا چوتھائی پیداوار کی جو شرط منع ہے وہ اس طرح ہے کہ زمین کےکسی خاص ٹکڑے کی پیداوار زمین کے مالک کے لیے ہو ۔ مالک عموما ایسا ٹکڑا منتخب کرتاہےتھا جوآبی گزر گاہ یا پانی کی نالی وغیرہ کےقریب واقع ہوتا اس لیے اس میں پیداوار زیادہ ہونے کی توقع ہوتی تھی۔ 2۔ کھیت کی کل پیداوار میں سے نصف تہائی یا چوتھائی پیداوار کی شرط لگانا جائزہے۔ 3۔ بٹائی کی بجائے زمین عاریتا دے دینا افضل ہے ۔ 4۔ رسول اللہ ﷺ کےحکم کی تعمیل دنیا کےظاہری مفاد سے زیادہ اہم ہے کیونکہ ارشاد نبوی کی تعمیل میں آخرت کافائدہ ہے ۔