Book - حدیث 2442

كِتَابُ الرُّهُونِ بَابُ أَجْرِ الْأُجَرَاءِ ضعیف حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَلِيمٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ كُنْتُ خَصْمَهُ خَصَمْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُوفِهِ أَجْرَهُ

ترجمہ Book - حدیث 2442

کتاب: رہن ( گروی رکھی ہوئی چیز) سے متعلق احکام ومسائل باب: مزدوروں کی مزدوری حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں جن کے خلاف قیامت کے دن میں خود مدعی ہوں گا، اور جس کےخلاف میں مدعی ہوں گا میں اس سے مقدمہ جیت جاؤں گا (لہذا یہ تین افردا ضرور سزا پائیں گے۔) (ایک) وہ شخص جو اللہ کا نام لے کر عہد کرے، پھر عہد شکنی کرے، (دوسرا) وہ جو کسی آزاد انسان کو (غلام بنا کر) بیچ ڈالے اور اس کی قیمت کھا لے، اور (تیسرا) وہ شخص جو کسی کو مزدور رکھے، پھر اس سے پورا کام لے کر اس کو اجرت پوری نہ دے۔ 1۔ مذکورہ گناہوں کاتعلق حقوق العباد سے ہے اوریہ بہت بڑاگناہ ہیں۔ 2۔ عہد شکنی ویسے بھی کبیرہ گناہ ہےاوراسے منافق کی علامتوں میں ذکر کیاگیاہے اس کے ساتھ جب اللہ کے احترام کوملحوظ نہ رکھنے کاگناہ بھی مل جائے توگناہ اوربھی بڑا ہوجاتاہے ۔ 3۔ غلام کوآزاد کرنا بہت بڑی نیکی ہے ۔ آزاد آدمی کواغوا کرکےغلام بنالیناناس کے بالکل برعکس عمل ہے اس لیے یہ بہت بڑا گناہ ہے ۔ 4۔اگر کسی کو اغوا کرکے غلام بنالیاجائے توممکن ہےکبھی مجرم کواپنی غلطی کااحساس ہواور اسے آزاد کردے لیکن جب اسے بیچ دیاگیا تواب اس کا آزاد ہونا بہت مشکل ہے اس لیے بہ گناہ اوربڑا ہوجاتاہے ۔ 5۔کسی سےاجرت پرکام لینا ایک دوطرفہ معاہدہ ہوتاہے کہ ایک شخص کام کرے گا اوردوسرا اس کے بدلے اسے مقررہ رقم اداکرے گا۔ کام مکمل ہوجانے کےبعدکارکن کے لیے تومعاہدہ توڑناممکن نہیں رہتا البتہ کام لینے والاظلم کرتےہوئے اس کا حق مارسکتاہے اس کی مجبوری کی وجہ سے یہ ایک بڑا جرم بن جاتاہے کیونکہ اس میں ظلم بھی ہے عہد شکنی بھی ہےاورحرام کھانا بھی ہے 6۔ قیامت کی سزااوررسوائی سےبچنےکےلیےکبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ 7۔ اسلام میں عدل وانصاف کوبہت اہمیت حاصل ہے ۔ اسلامی معاشرہ وہی ہے جو عدل وانصاف پرکاربند ہو۔ 8۔ مسلمانوں کوانفرادی اوراجتماعی طورپرعدل وانصاف کااہتمام کرنا چاہیے تاکہ ان کا معاشرہ اسلامی بن سکے۔