Book - حدیث 2424

كِتَابُ الصَّدَقَاتِ بَابُ حُسْنِ الْقَضَاءِ حسن حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَلَفَ مِنْهُ حِينَ غَزَا حُنَيْنًا ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ أَلْفًا فَلَمَّا قَدِمَ قَضَاهَا إِيَّاهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ إِنَّمَا جَزَاءُ السَّلَفِ الْوَفَاءُ وَالْحَمْدُ

ترجمہ Book - حدیث 2424

کتاب: صدقہ وخیرات سے متعلق احکام ومسائل باب: قرض اچھے طریقے سے ادا کرنا حضرت عبداللہ بن ابو ربیعہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ان سے غزوہ حنین کے موقع پر تیس ہزار یا چالیس ہزار قرض لیا۔ جب نبی ﷺ (غزوہ سے واپس) تشریف لائے تو انہیں قرض ادا کر دیا، پھر نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تیرے گھر بار میں اور تیرے مال میں برکت عطا فرمائے۔ ادھار کا بدلہ (قرض کی) ادائیگی اور شکریہ ادا کرنا ہے۔ 1۔ ضرورت کےوقت قرض لینا جائزہے۔ 2۔ اچھے طریقے سےادائیگی کامطلب یہ ہےکہ بروقت ادائیگی کی جائے۔ 3۔ جیسی چیز لی ہو‘اس سے بہتر اداکرنا بھی حسن اخلاق میں شامل ہے‘لیکن اگریہ پہلے سے طے ہواور قرض خواہ اس کا مطالبہ کرےتویہ سودہےجوبہت بڑا گناہ ہے۔ 4۔ قرض اداکرتےوقت قرض خواہ کودعائیں دینا اور اس کا شکریہ اداکرنا بھی اچھے طریقے سے ادائیگی میں شامل ہے۔