Book - حدیث 2422

كِتَابُ الصَّدَقَاتِ بَابُ حُسْنِ الْمُطَالَبَةِ وَأَخْذِ الْحَقِّ فِي عَفَافٍ حسن صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الصَّبَّاحِ الْقَيْسِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَبَّبٍ الْقُرَشِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ الطَّائِفِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَامِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِصَاحِبِ الْحَقِّ خُذْ حَقَّكَ فِي عَفَافٍ وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ

ترجمہ Book - حدیث 2422

کتاب: صدقہ وخیرات سے متعلق احکام ومسائل باب: اچھے طریقے سے مطالبہ کرنا اور حق کی وصولی میں گناہ سے اجتناب کرنا حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے حق والے (قرض خواہ) سے فرمایا: اپنا حق شرافت سے وصول کرو، پورا ادا ہو یا ادھورا۔ 1۔قرض واپس مانگتے وقت جب مقروض اداکرنے سے انکار کرے یابہانہ بازی کرکے مزید مہلت کاطلب ہوتو غصہ آجانا فطر ی بات ہے لیکن غصے پرقابو پانا بہت بڑی نیکی ہے ۔ 2۔عفاف (گناہ سے اجتناب یاشرافت)کامطلب یہ ہے کہ نرمی اورشفقت سےمطالبہ کرے۔ گالی گلوچ تک نوبت نہ پہنچنے دے۔ وہی مال وصول کرےجواس کےلیے لینا حلال ہے۔ 3۔ مقروض کوبھی چاہیے کہ قرض خواہ کےاحسان کا خیال کرتےہوئے اچھے طریقےسےبات کرے۔ وقت پرقرض اداکرے۔ نہ کرسکے تومزیدمہلت طلب کرے اورمعذرت کرے۔ 4۔ [واف اوغیرواف] اگرعفاف کی صفت بنایا جائے توعفاف کےمکمل یاغیر مکمل ہونے کامطلب یہ ہوگا کہ اگر غصہ آجائے توبھی حدسے نہ بڑھے اگر پوری طرح عفاف پرعمل نہیں ہوسکاتوجہاں تک ہوسکے اس کا خیال کرے۔ مسلمان بھائی کےاحترام کازیادہ سےزیادہ خیال رکھے ۔