Book - حدیث 2407

كِتَابُ الصَّدَقَاتِ بَابُ الْكَفَالَةِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا فَقَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَإِنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ أَنَا أَتَكَفَّلُ بِهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْوَفَاءِ قَالَ بِالْوَفَاءِ وَكَانَ الَّذِي عَلَيْهِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ أَوْ تِسْعَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا

ترجمہ Book - حدیث 2407

کتاب: صدقہ وخیرات سے متعلق احکام ومسائل باب: مقروض کی ضمانت دینا حضرت ابو قتادہ (حارث بن ربعی انصاری) ؓ سے روایت ہے، (انہوں نے فرمایا: ) نبی ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا فرمائیں تو آپ نے فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو (میں نہیں پڑھوں گا) اس پر قرض ہے۔ حضرت ابو قتادہ ؓ نے عرض کیا: میں اس کی ذمے داری اٹھاات ہوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: (ذمہ داری) پوری کرو گے؟ انہوں نے کہا: پوری کروں گا۔ اور اس کا قرض اٹھارہ یا انیس درہم تھا۔ 1۔امام کےلیےجائزہےکہ کسی بڑے گناہ کےمرتکب کاجنازہ پڑھنے سےانکارکردے تاکہ دوسروں کو تنبیہ ہولیکن موجودہ حالات میں یہ کام کسی بڑے عالم ہی کوکرنا چاہیے جس کاعوام پراثرہو۔عام ائمہ مساجد کی یہ پوزیشن نہیں کہ ان کےنماز جنازہ ادانہ کرنےسےعوام اثرقبول کریں بلکہ منفی اثرات زیادہ ہونےکاامکان ہے‘تاہم دوسے مناسب طریقے سےتنبیہ ضرور کردیں۔ 2۔ کبیرہ گناہ کےمرتکب کوبھی بلاجنازہ دفن نہیں کرنا چاہیے۔ 3۔ میت کی طرف سےادائیگی کی ذمہ داری اٹھالینا دریت ہےبلکہ یہ اس پراوراس کے لواحقین پراحسان ہے۔