Book - حدیث 2406

كِتَابُ الصَّدَقَاتِ بَابُ الْكَفَالَةِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّارَوَرْدِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا لَزِمَ غَرِيمًا لَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيكَهُ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أُفَارِقُكَ حَتَّى تَقْضِيَنِي أَوْ تَأْتِيَنِي بِحَمِيلٍ فَجَرَّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمْ تَسْتَنْظِرُهُ فَقَالَ شَهْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنَا أَحْمِلُ لَهُ فَجَاءَهُ فِي الْوَقْتِ الَّذِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ هَذَا قَالَ مِنْ مَعْدِنٍ قَالَ لَا خَيْرَ فِيهَا وَقَضَاهَا عَنْهُ

ترجمہ Book - حدیث 2406

کتاب: صدقہ وخیرات سے متعلق احکام ومسائل باب: مقروض کی ضمانت دینا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی کے ذمے دوسروں کے دس دینار تھے۔ وہ ہر وقت مقروض کے ساتھ رہنے لگا۔ مقروض نے کہا: تجھے دینے کو میرے پاس کچھ نہیں۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تجھے نہیں چھوڑوں گا حتی کہ تو میرا قرج ادا کرے یا کوئی ضامن پیش کرے۔ وہ اسے کھینچ کر نبی ﷺ کی خدمت میں لے آیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: تو اسے کتنے عرصے کی مہلت دیتا ہے؟ اس نے کہا: ایک مہینے کی۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: میں اس کی ذمے داری اٹھاتا (ضمانت دیتا) ہوں۔ مقروض نبی ﷺ کے فرمائے ہوئے وقت پر حاضر ہو گیا۔ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا: تجھے یہ مال کہاں سے ملا؟ اس نے کہا: ایک کان سے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اس میں کوئی بھلائی نہیں۔ اور خود اس کا قرض ادا کر دیا۔ 1۔قرض خواہ مقروض پرقرض کی ادائیگی کےلیےزوردےسکتاہے۔ 2۔آپس میں جھگڑے سےبہترہےکہ حاکم کےسامنے معاملہ پیش کردیاجائے۔ 3۔ اگرایسی صورت ممکن ہوجس میں فریقین کےلیےسہولت ہواورکسی کی حق تلفی بھی نہ ہو توحاکم کوچاہیے کہ وہ صورت اختیار کرنے کامشورہ دے۔ 4۔ مقروض کومہلت دینا اس سےہمدردی اورکارثواب ہے ۔ 5۔ ضمانت طلب کرنا اورضمانت دینا شرعاًجائزہے۔ 6۔ کان سے ملنے والی چیز حلال ہے لیکن بہتر تھاکہ ووہ محنت کرکےکماتااوراس سےقرض اداکرنا۔ 7۔ ضامن کی طرف سےادائیگی مقروض کی طرف سےادئیگی شمارہوگی اورمقروض برئ الذمہ ہوجائے گا۔