Book - حدیث 2403

كِتَابُ الصَّدَقَاتِ بَابُ الْحَوَالَةِ صحیح حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّلْمُ مَطْلُ الْغَنِيِّ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ

ترجمہ Book - حدیث 2403

کتاب: صدقہ وخیرات سے متعلق احکام ومسائل باب: قرض خواہ کو کسی اور سے رقم وصول کرنے کا کہنا حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دولت والے کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ اور تم میں سے کسی کو جب مال دار آدمی کا حوالہ دیا جائے تو اسے چاہیے کہ حوالہ قبول کر لے۔ 1۔ ’’دولت والے‘‘سےمرادوہ مقروض ہےجس کے پاس قرض ادا کرنے کےلیے رقم یا کوئی اورچیز موجود ہے اگرچہ عرف عام کے مطابق وہ غریب ہی شمار ہوتاہو۔ 2۔ جب قرض اداکرنےکی استطاعت ہوتوقرض کی ادائیگی میں تاخیر کرناگناہ ہے‘سوائے اس کے پہلے سےقرض کی ادائیگی کےلیے ایک خاص مدت کاتعین ہواہواوریہ مہلت ابھی باقی ہو‘اس صورت میں بھی مقررہ وقت سےپہلے اداکرنا افضل ہے ۔ ٹال مٹول کامطلب ادائیگی کی طاقت ہونے کے باوجود مزید مہلت طلب کرنا ہے اوریہ ظلم ہے ۔ 3۔ حوالہ کامطلب یہ ہے کہ مقروض قر ض خواہ سےکہے:’’فلاں آدمی کےپاس جاووہ تمھیں رقم ادا کردے گا۔‘‘جس کے پاس جانے کوکہا گیاہے اگر وہ صاحب استطاعت ہےاورامید ہے کہ اداکردے گا توقرض خواہ کو اس سے رابطہ کرنا چاہیے‘اگر وہ ادائیگی سےانکارکرےتودوبارہ اصل مقروض سےمطالبہ کرسکتاہے ۔ 4۔ جس کے پاس جانے کاکہا گیا ہے‘اگر اس کی ظاہری حالت ایسی نہیں کہ وہ قرض اداکرنے کاقابل معلوم ہوتاہوتو قرض خواہ مقروض کی بات ماننے سےانکار کرسکتا ہے‘اوراس سےمطالبہ کرسکتاہےکہ تم خود اس سے یاکسی اور سے وصول کرکے مجھے رقم دو۔