Book - حدیث 2339

كِتَابُ الْأَحْكَامِ بَابٌ إِذَا تَشَاجَرُوا فِي قَدْرِ الطَّرِيقِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ قَالَا حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاجْعَلُوهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ

ترجمہ Book - حدیث 2339

کتاب: فیصلہ کرنے سے متعلق احکام و مسائل باب: راستے کی مقدار میں اختلاف ہو جائے تو ( کیا کریں ؟ ) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب راستے کے بارے میں تمہارا اختلاف ہو جائے تو اسے سات ہاتھ رکھ لیا کرو۔ 1۔ ہاتھ سے مراد نیچے سےکہنی تک کا فاصلہ ہے جو دوبالشت یعنی آٹھ گرہ یا ڈیڑھ فٹ کےبرابر ہے ۔ سات ذراع کی مقدار ساڑھے تین گز یا ساڑھے دس فٹ کے برابر ہے ۔ 2۔ راستے سے مراد گلی کی چوڑائی بھی ہو سکتی ہے اور کھیتوں کے درمیان کھلا راستہ بھی ۔ اس کی مقدار اتنی ہونی چاہیے کہ پیدل آدمی عورتیں اور گھوڑے گدھے یا خچر پر سوار آدمی سب آسانی سے گزر سکیں ۔ 3۔ آج کا دور کاروں بسوں وغیرہ کا دور ہے اس لیے ان کی مناسبت سے مناسب حد مقرر کی جا سکتی ہے ۔ نئی آبادیوں کا نقشہ تیار کرتے وقت گلیوں اور سڑکوں کی چوڑائی اس سے کم نہ رکھی جائے ۔ 4۔ بنجر زمین کو کاشت کرتے وقت بھی جہاں راستہ رکھا جائے اس کی مقدار اسی طرح مقرر کی جائے ۔