Book - حدیث 2323

كِتَابُ الْأَحْكَامِ بَابُ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَاجِرَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالًا صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ

ترجمہ Book - حدیث 2323

کتاب: فیصلہ کرنے سے متعلق احکام و مسائل باب: کوئی مال (ناجائز طور پر ) حاصل کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھانا (کبیرہ گناہ ہے ) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی قسم کھائی جب کہ وہ قسم کھاتے ہوئے گناہ (جھوٹ) کا ارتکاب کر رہا ہے اور اس (جھوٹی قسم) کے ذریعے سے کسی مسلمان کے مال کا کچھ حصہ حاصل کرتا ہے، جب اللہ سے اس کی ملاقات ہو گی تو اللہ اس پر ناراض ہو گا۔ 1۔ جھوٹی قسم بڑا گناہ ہے خاص طور پر جب کہ مقصد کسی کا مال چھیننا ہو۔ 2۔ غیر مسلم کامال ناجائز طور پر حاصل کرنا بھی جرم ہے لیکن ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا مال ناجائز طریقے سے لے لے یہ اور بھی بڑا گناہ اور جرم ہے ۔ 3۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بعض گناہوں گاروں پر ناراضی کا اظہار بھی فرمائے گا ۔ 4۔ غضب اللہ کی صفت ہے اس پر ایمان رکھنا چاہیے ۔ اور اللہ کے غضب سے بچنے کےلیے نیکیاں کرنی چاہییں اور گناہوں سے بچنا چاہیے ۔