Book - حدیث 2313

كِتَابُ الْأَحْكَامِ بَابُ التَّغْلِيظِ فِي الْحَيْفِ وَالرَّشْوَةِ صحیح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي

ترجمہ Book - حدیث 2313

کتاب: فیصلہ کرنے سے متعلق احکام و مسائل باب: نا انصافی اور رشوت بڑا گناہ ہے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر اللہ کی لعنت ہے۔ (1) رشوت دینے کی ضرورت تبھی پیش آتی ہے جب کوئی شخص غلط موقف پر ہونے کے باوجود اپنے حق میں فیصلہ کرانا چاہتاہے ۔ اس طرح رشوت دینے والا حق دار کا حق بھی مارتا ہے اور قاضی کو بھی گناہ پر آمادہ کرتا ہے ۔ یہ دگنا گناہ اسے اللہ کی رحمت سے محروم کر دیتا ہے ۔ (2) رشوت لینے والا دنیا کے معمولی سے مفاد کے لیے ایک بے گناہ پر ظلم کرتا ہے اور اس سے اس کا حق چھین لیتا ہے حالانکہ اسے مقرر ہی اس لیے کیا گیا ہے کہ دوسروں کو ظلم سے روکے ۔ اس لحاظ سے اس کا گناہ دوسرے ظالم سے کہیں زیادہ سنگین ہو جاتا ہے اس لیے وہ بھی اللہ کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے ۔ (3) لعنت کامطلب اللہ کی رحمت سے محروم ہونا اللہ کا کسی بندے کو اس کے کسی جرم کی وجہ سے اپنی رحمت سے محروم کرنا ہے ۔لعنت کا مطلب کسی کو یہ بددعا دینا بھی ہے کہ وہ اللہ کی رحمت سے محروم ہو جائے ۔ (4) [راشی] رشوت دینے والے کو [مرتشی] رشوت لینے والے کو اور [رائش] ان دونوں کے درمیان معاملہ طے کرانے والے کو کہتے ہیں ۔ یہ سب بڑے گناہ گار ہیں ۔