Book - حدیث 2285

كِتَابُ التِّجَارَاتِ بَابُ السَّلَمِ فِي الْحَيَوَانِ صحیح حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا وَقَالَ إِذَا جَاءَتْ إِبِلُ الصَّدَقَةِ قَضَيْنَاكَ فَلَمَّا قَدِمَتْ قَالَ يَا أَبَا رَافِعٍ اقْضِ هَذَا الرَّجُلَ بَكْرَهُ فَلَمْ أَجِدْ إِلَّا رَبَاعِيًا فَصَاعِدًا فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعْطِهِ فَإِنَّ خَيْرَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً

ترجمہ Book - حدیث 2285

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل باب: جانور کی بیع سلم حضرت ابو رافع ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی سے جوان اونٹ قرض لیا اور فرمایا: جب زکاۃ کے اونٹ آئیں گے ، ہم تجھے (ایک اونٹ) ادا کر دیں گے۔ جب اونٹ آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ابو رافع ! اس شخص کو اس کا جوان اونٹ ادا کر دو۔ لیکن مجھے چار دانت یا اس سے زیادہ عمر ولا اونٹ ہی ملا۔ میں نے نبی ﷺ کو 0صورت حال سے) آگاہ کیا تو آپ نے فرمایا: وہی دے دو، بہترین لوگ وہ ہوتے ہیں جو اچھے طریقے سے (قرض) ادا کرتے ہیں۔ (1) ادھار خرید وفروخت جائز ہے ۔ (2) رباعی سے مراد وہ اونٹ ہے جس کے دودھ کے چار وانت ٹوٹ چکے ہوں اس کی عمر سات سال ہوتی ہے ۔ (3) جانور جس قسم کا لیا ہو‘ اس سے بہتر واپس کرنا جائز ہے بشرطیکہ پہلے سے یہ شرط طے نہ ہوئی ہو بلکہ ادا کرنے والا اپنی خوشی سے ادا کرے ‘ دوسرے کی طرف سے مطالبہ نہ ہو۔