Book - حدیث 2274

كِتَابُ التِّجَارَاتِ بَابُ التَّغْلِيظِ فِي الرِّبَا صحیح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرِّبَا سَبْعُونَ حُوبًا أَيْسَرُهَا أَنْ يَنْكِحَ الرَّجُلُ أُمَّهُ

ترجمہ Book - حدیث 2274

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل باب: سود کا گناہ بہت بڑا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سود کے ستر گناہ ہیں جن میں سب سے ہلکا گناہ اس قدر (بڑا) ہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں سے نکاح کرے۔ (1) سود کسی بھی معاشرے کی تباہی کے لیے بہت بڑا سبب ہے اور اس ے معاشی اور معاشرتی نقصانات کے بے شمار پہلو ہیں ‘ اس لیے فرمایا گیا کہ یہ گناہ اکیلا ہی ستر گناہوں کے برابر ہے ۔ اور گناہ بھی قسم قسم کے ۔ (2) زنا کبیرہ گناہ ہے اور اس کی شناعت ہر دور کے مہذب معاشروں میں مسلم رہی ہے اسی طرح محرم خواتین خصوصاً ماں اور بہن کا احترام ہر مہذب معاشرے میں تسلیم کیا جاتا ہے لہٰذا ماں سے جنسی تعلق قائم کرنا اتنا برا کام ہے جس سے زیادہ قابل نفرت گناہ کا تصور نہیں کیا جا سکتا ‘ لیکن سود اس سے بھی زیادہ برا اور قابل نفرت جرم ہے ۔ (3) سب سے ہلکا گناہ اتنا برا اور قابل نفرت ہے تو دوسرے انہتر قسم کے گناہوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتنے برے ہوں گے ۔ (4)اسلامی معاشرے میں سب سے نمایاں وصف ہمدردی اور خیر خواہی ہے جب کہ سود اس کے بالکل برعکس ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہےکہ اگر مقروض قرض ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے اصل قرض بھی معاف کر دیا جائے ‘ لیکن سود خور اصل قرض معاف کرنے کے بجائے سود چھوڑنے کے لیے بھی تیار نہیں ‘ مقروض اگر قرض کے ذریعے سے مطلوبہ فائدہ حاصل نہ بھی کر سے ‘ مثلاً : قرض لے کر تجارت کرے تو اسے خواہ نفع نہ بھی ہو ‘ سود خور اپنا سود وصول کرنے کو حاضر ہو جاتا ہے حالانکہ اس صورت میں مقروض اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی مدد کی جائے ‘ نہ کہ اسے مزید پریشان کیا جائے ‘ اس لیے اسلامی معاشرے میں سود کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ قرآن کی روشنی میں ایسا معاشرہ اسلام دشمن معاشرہ ہے ۔