Book - حدیث 2272

كِتَابُ التِّجَارَاتِ بَابُ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ مُتَفَاضِلًا يَدًا بِيَدٍ صحیح حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عُرْوَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى صَفِيَّةَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مِنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ

ترجمہ Book - حدیث 2272

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل باب: جانور کا جانور سے نقد بنقد کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت صفیہ ؓا کو سات غلاموں کے عوض خریدا تھا۔ عبدالرحمٰن بن مہدی ؓ نے اس حدیث میں یہ الفاظ بھی بیان فرمائے: حضرت دحیہ کلبی ؓ سے۔ (1) حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے قبیلے کے سردار کی بیٹی تھیں ۔ جنگی قیدی بن کر مسلمانوں کے قبضے میں آئیں ۔ غنیمت کی تقسیم کے موقع پر حضرت دحیہ کلبی ﷜ کے حصے میں آئیں ۔ رسول اللہ ﷺ کو مشورہ دیا گیا کہ وہ سردار کی بیٹی ہے ‘ اس لیے ان کا آپ کے پاس ہونا زیادہ مناسب ہے ‘ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حضرت دحیہ ﷜ سے خرید لیا ۔ (2) غلاموں اور لونڈیوں کی خرید و فروخت جائز ہے ۔ (3) غلاموں اور لونڈیوں کی خریدوفروخت کے بنیادی ا حکام ومسائل وہی ہیں جو جانوروں کی خرید وفروخت کے لیے ہیں لیکن غلام چونکہ انسان ہوتے ہیں ‘ اس لیے ان کے بعض مسائل الگ ہیں جن کی تفصیل اپنے مقام پر آ ئے گی۔ (4) غلام اور لونڈی کو آزاد کرنا ثواب ہے بالخصوص جبکہ وہ مسلمان ہوں اور نیک ہوں۔