Book - حدیث 2258

كِتَابُ التِّجَارَاتِ بَابُ مَنْ قَالَ: لَا رِبَا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ صحیح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ الرِّبْعِيِّ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ قَالَ سَمِعْتُهُ يَأْمُرُ بِالصَّرْفِ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ وَيُحَدَّثُ ذَلِكَ عَنْهُ ثُمَّ بَلَغَنِي أَنَّهُ رَجَعَ عَنْ ذَلِكَ فَلَقِيتُهُ بِمَكَّةَ فَقُلْتُ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ رَجَعْتَ قَالَ نَعَمْ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ رَأْيًا مِنِّي وَهَذَا أَبُو سَعِيدٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الصَّرْفِ

ترجمہ Book - حدیث 2258

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل باب: (ان لوگوں کے دلائل)جو کہتے ہیں کہ سود صرف ادھار میں ہوتا ہے حضرت ابو جوزاء ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے ( براہ راست) سنا کہ وہ بیع صرف کا حکم دیتے تھے (اسے جائز کہتے تھے) اور ان سے یہ قول روایت کیا جاتا تھا، پھر مجھے خبر ملی کہ انہوں نے اس قول سے رجوع کر لیا ہے، چنانچہ میں ان سے مکہ جا کر ملا اور عرض کیا: مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نے (صَرف کے جواز سے) رجوع کر لیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: ہاں! وہ قول میری اپنی رائے تھی۔ اور یہ ابو سعید ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے بیع صرف سے منع فرمایا ہے۔ (1) بیع صرف کا مطلب ‘سونے کا چاندی سے یا چاندی کا سونے سےیا ایک ملک کی کرنسی کا دوسرے ملک کی کرنسی سے تبادلہ ہے ۔ (2) ایک ملک کی کرنسی ایک جنس ہے ‘ دوسرے ملک کی کرنسی دوسری جنس ہے اگرچہ ان کانام ایک ہی ہو ‘ مثلاً :پاکستانی روپیہ اور بھارتی روپیہ الگ الگر جنسیں ہیں ۔ (3) اس پر اتفاق ہے کہ مختلف اجناس کی کرنسی کے تبادلے میں ایک طرف سے نقد ادائیگی اور دوسری طرف سے ادائیگی کا وعدہ ناجائز ہے بلکہ دونوں طرف سے نقد ادائیگی شرط ہے ۔ دوسری شرط یہ ہے کہ اگر جنس ایک ہو تو ان میں کمی بیشی نہ کی جائے ۔ (4) مسئلے میں غلطی معلوم ہونے پر رجوع کرلینا عالم کی شان ہے ۔