Book - حدیث 2253

كِتَابُ التِّجَارَاتِ بَابُ الصَّرْفِ وَمَا لَا يَجُوزُ مُتَفَاضِلًا يَدًا بِيَدٍ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ

ترجمہ Book - حدیث 2253

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل باب: بیع صرف کا بیان اور جن چیزوں کے دست بدست تبادلے میں بھی کمی بیشی جائزنہیں حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سونے کا سونے سے تبادلہ سود ہے مگر دست بدست ہو (تب سود نہیں)، گندم کا گندم سے تبادلہ سود ہے سوائے اس کے کہ دست بدست ہو، جو کا جو سے تبادلہ سود ہے مگر جب دست بدست ہو، کھجور کا کھجور سے تبادلہ سود ہے الا یہ دست بدست ہو۔ (1) خوردنی اشیاء کی اگر جنس ایک ہو تو اور قسمیں مختلف ہوں تو ان کا ایک دوسرے سے تبادلہ دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے ۔ (الف) دونوں طرف سے برابر مقدار میں چیزدی جائے ،مثلاً : ایک صاع کھجوروں کے بدلے میں ایک صاع دوسری قسم کی کھجوریں لی جا سکتی ہیں لیکن ایک صاع کےبدلے میں دوصاع کھجورین لینا یا دینا درست نہیں ۔ (ب) تبادلہ نقد ہونا چاہیے ،یعنی مجلس میں دونوں طرف سے چیز وصول کر لی جائے ۔ (2) سونے چاندی کا بھی یہی حکم ہے ۔ سونے کے بدلے میں سونا دست بدست اور برابر وزن میں لیا دیا جانا چاہیے ۔ (3) اگر جنس مختلف ہوتو وزن اور مقدار میں کمی بیشی جائز ہے ، مثلاً :گندم کےبدلے جو ، یا سونے کے بدلے میں چاندی کے تبادلے میں مقدار برابر ہونا ضروری نہیں ، تاہم تبادلہ دونوں طرف سے فوری ادائیگی کی صورت میں ہونا ضروری ہے ۔ (4) اگر ایک شخص کے پاس ادنیٰ قسم کی گندم ہے اور وہ اعلیٰ قسم کی گندم حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کا جائز طریقہ یہ ہے کہ اپنی گندم نقد رقم کے عوض فروخت کر دی جائے ، پھر ان پیسوں سے مطلوبہ گندم خرید لی جائے ۔