Book - حدیث 2235

كِتَابُ التِّجَارَاتِ بَابُ الْأَسْوَاقِ وَدُخُولِهَا حسن حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ حِينَ يَدْخُلُ السُّوقَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ كُلُّهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ وَمَحَا عَنْهُ أَلْفَ أَلْفِ سَيِّئَةٍ وَبَنَى لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ

ترجمہ Book - حدیث 2235

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل باب: بازاروں میں آ نا جانا حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھے: (لا اله الا الله وحده لا شريك له‘ له الملك وله الحمد‘ يحيي و يميت وهو حي لا يموت‘ بيده الخير كله‘ وهو علي كل شئي قدير) اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے اور تعریف بھی اسی کی ہے۔ وہ زندہ کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، اور وہ زندہ رہنے والا ہے جسے موت نہیں، اسی کے ہاتھ میں تمام کی تمام بھلائی ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ (ایک ملین) نیکیاں لکھتا ہے، اور دس لاکھ گناہ معاف فرماتا ہے۔ اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر تعمیر فرماتا ہے۔ (1) جائز ضرورت کے لیے بازار میں جانا جائز ہے ۔ (2)جہاں کا ماحول اللہ سے غفلت کا ہو ، وہاں اللہ کو یاد کرنا بہت ثواب کا کام ہے ۔ (3)سنت کے مطابق ادا کیا جانے والا بظاہر معمولی نیک کام بھی اللہ کےہاں بہت مقام رکھتا ہے ۔ (4) مسنون اذکار کا اہتمام کرنا چاہیے اور خود ساختہ اذکار سے بچنا چاہیے ۔ (5) اس حدیث پر عمل کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ روایت بعض کے نزدیک حسن ہے ۔