Book - حدیث 2211

كِتَابُ التِّجَارَاتِ بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ بَاعَ نَخْلًا مُؤَبَّرًا، أَوْ عَبْدًا لَهُ مَالٌ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ، فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنِ ابْتَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ، فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ»

ترجمہ Book - حدیث 2211

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل باب: کھجور کے بار آور درخت کی اور مال والے غلام کی فروخت حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کھجور کے درخت بیچے جب کہ ان کی تابیر ہو چکی تھی تو ان کا پھل بیچنے والے کا ہے، سوائے اس صورت کے کہ خریدار شرط کر لے۔ اور جس نے کوئی غلام خریدا جس کے پاس کچھ مال تھا تو اس کا مال بیچنے والے کا ہے، سوائے اس صورت کے کہ خریدار شرط کر لے۔ ١۔ غلام کو اپنے فرائض ادا کرنے کے لیے بعض اوقات مال کی ضرورت ہوتی ہے اور مالک مناسب مقدار میں رقم اس کے تصرف میں دے دیتا ہے۔ یا مالک اپنا دل خوش کرنے کے لیے یا غلام کی خدمت پر خوش ہو کر اس کی حوصلہ افزائی کے لیے کوئی زیور پہنا دیتا ہے تو یہ مال مالک ہی کا رہتا ہے، جب غلام بیچا جائے گا تو یہ مال ساتھ نہیں جائے گا۔ ٢۔ اگر خریدار وضاحت کرے کہ میں مال سمیت غلام خریدرہا ہوں یا پھل سمیت درخت خرید رہا ہوں تو ظاہر ہے قیمت میں اس لحاظ سے اضافہ ہو جائے گا۔ اس صورت میں شرط کے مطابق مال یا پھل خریدار کا ہوگا۔ ٣۔ خرید و فروخت کے دوران میں ان معاملات کی وضاحت ہو جانی ضروری ہے جن کی وجہ سے بعد میں اختلافات اور جھگڑے پیدا ہو سکتے ہیں۔