Book - حدیث 2203

كِتَابُ التِّجَارَاتِ بَابُ السَّمَاحَةِ فِي الْبَيْعِ صحیح حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللَّهُ عَبْدًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، سَمْحًا إِذَا اشْتَرَى، سَمْحًا إِذَا اقْتَضَى»

ترجمہ Book - حدیث 2203

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل باب: خریدو فروخت میں نرم رویہ اختیار کرنا حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائے جو بیچتے وقت نرمی کرتا ہے، خریدتے وقت نرمی کرتا ہے اور جب تقاضا کرتا ہے تو نرمی کرتا ہے۔ 1۔ اللہ تعالیٰ کو نرمی پسند ہے کیونکہ اس سے معاشرے میں امن قائم ہوتا ہے، جب کہ درشتی سے ایسے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں جو امن و امان کو درہم برہم کر دیتے ہیں۔ ٢۔ لوگوں میں زیادہ جھگڑے لین دین کے معاملات میں ہوتے ہیں، جب ایک شخص کی غلطی کو دوسرا برداشت کرنے پر آ مادہ نہیں ہوتا اور فریقین میں سے ہر ایک اپنا فائدہ مد نظر رکھتا ہے، اس لیے ان معاملات میں تحمل و برداشت کی ضرورت زیادہ ہے۔ ٣۔ بیچنے میں نرمی یہ ہے کہ قیمت میں مناسب رعایت دی جائے ، ادھار لینے والے کو مہلت دی جائے، اگر خریدار نامناسب حد تک رعائت طلب کرے تو جھگڑنے کی بجائے نرمی سے معذرت کر لی جائے۔ اگر وہ خریدی ہوئی چیز واپس کرنا چاہے تو واپس لے لی جائے۔ ٤۔ خریدنے میں نرمی یہ ہے کہ قیمت میں نامناسب حد تک رعایت کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ اگر خریدی جانے والی چیز میں کوئی معمولی عیب ہو تو نظر انداز کر دیا جائے حتیٰ الامکان نقد ادائیگی کی جائے۔ اگر دکاندار نامناسب رویہ اختیار کرے تو اس کے جواب میں تلخ کلامی نہ جائے۔ ٥۔ تقاضا سے مراد اپنا حق طلب کرنا ہے، مثلاً: قرض کی واپسی کا مطالبہ ۔ اور پیشگی قیمت ادا کرنے کی صورت میں خریدی ہوئی چیز مقررہ وقت پر مہیا کرنے کا مطالبہ۔ ٦۔ تقاضا میں نرمی کا مطلب ہے دوسرے کے جائز عذر کو تسلیم کرتے ہوئے مناسب مہلت دینا۔ اور مطالبہ کرتے ہوئے اس کی عزت نفس کا خیال کرنا اور تلخ کلامی یا گالی گلوچ سے پرہیز کرنا۔ ٧۔ خوش اخلاقی بہت بڑی نیکی ہے۔ ٨۔ خوش اخلاق تاجر کے کاروبار میں برکت ہوتی ہے۔