Book - حدیث 218

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابُ فَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَبِي الطُّفَيْلِ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ، لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِعُسْفَانَ، وَكَانَ عُمَرُ، اسْتَعْمَلَهُ عَلَى مَكَّةَ، فَقَالَ عُمَرُ: مَنِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي؟ قَالَ: اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْهِمْ ابْنَ أَبْزَى، قَالَ: وَمَنِ ابْنُ أَبْزَى؟ قَالَ: رَجُلٌ مِنْ مَوَالِينَا، قَالَ عُمَرُ، فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى، قَالَ: إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ، قَاضٍ، قَالَ عُمَرُ، أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ»

ترجمہ Book - حدیث 218

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت باب: قرآن کا علم حاصل کرنے اور اس کی تعلیم دینے والے کی فضیلت سیدنا ابو طفیل عامر بن واثلہ ؓ سے روایت ہے کہ عسفان کے مقام پر حضرت نافع بن عبدالحارث ؓ نے سیدنا عمر ؓ سے ملاقات کی۔ انہیں سیدنا عمر ؓ نے مکہ کا گورنر مقرر فرمایا تھا۔ سیدنا عمر ؓ نے فرمایا: آپ وادئ مکہ کے باشندوں پر( ان کے معاملات کی دیکھ بھال کے لئے) اپنا نائب کسے مقرر کر کے آئے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے ابن ابزی ؓ کو اپنا قائم مقام مقرر کیا ہے۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: ابن ابزی کون صاحب ہیں؟ انہوں نے کہا: ہمارے مولیٰ(آزاد کردہ غلام )ہیں۔ عمر ؓ نے فرمایا:آپ نے ایک مولیٰ کو ان پر حاکم مقرر کر دیا؟ انہوں نے کہا: وہ کتاب اللہ کے عالم ہیں، علم میراث کے بھی عالم ہیں، اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ سیدنا عمر ؓ نے فرمایا: تمہارے نبی ﷺ نے (واقعی سچ) فرمایا تھا:’’ اللہ تعالیٰ اس کتاب( کے علم اور اس پر عمل ) کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو بلند مقام عطا فرمائے گا اور اس( سے اعراض ) کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو پست ( اور ذلیل ) کر دے گا۔‘‘ (1) اس واقعہ کے راوی ابوطفیل عامر بن واثلہ ان صحابہ کرام میں سے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے دوران میں بچپن کی عمر میں تھے۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سے سب سے آخر میں فوت ہوئے۔ آپ کی وفات 110 ہجری میں ہوئی۔ حضرت نافع بن عبدالحارث رضی اللہ عنہ بھی صحابی ہیں۔ فتح مکہ کے موقع پر قبول اسلام کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت ابن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کا نام عبدالرحمٰن ہے، قبیلہ بنو خزاعہ سے دلاء کا تعلق ہے، یہ بھی صغار صحابہ میں سے ہیں۔ (2) خلافت راشدہ کے دوران میں کسی بھی سرکاری منصب کے لیے اہمیت کا معیار صرف عمل و عمل تھا، نہ کہ قبیلہ و خاندان۔ (3) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آزاد کردہ غلام کو عہدہ دینے پر جو تعجب کا اظہار کیا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسے افراد کو عہدے کا اہل نہیں سمجھتے تھے بلکہ آپ رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ نافع رضی اللہ عنہ نے ابن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کو اس عہدے پر فائز کرتے ہوئے کس معیار کو پیش نظر رکھا ہے۔ جب معلوم ہوا کہ وہ واقعی اس عہدے کے اہل ہیں تو ان کے تقرر پر پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ (4) ارشاد نبوی میں صرف کتاب اللہ (قرآن مجید) کا ذکر ہے لیکن کتاب اللہ کا عالم وہی کہلا سکتا ہے جو حدیث کا علم بھی رکھتا ہو کیونکہ حدٰث نبوی قرآن مجید کی تشریح اور عملی تفسیر ہے۔