Book - حدیث 2115

كِتَابُ الْكَفَّارَاتِ بَابُ إِبْرَارِ الْمُقْسِمِ صحیح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ»

ترجمہ Book - حدیث 2115

کتاب: کفارے سے متعلق احکام و مسائل باب: قسم دینے والے کی قسم پوری کرنا حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں قسم دینے والے کی قسم پوری کرنے کا حکم دیا۔ 1۔ مسلمان کا مسلمان پر حق ہے کہ جائز کام میں اس کی مدد کرے ، خصوصا جب اس سے مدد مانگی بھی گئی ہو ۔ قسم دینا بھی ایک قسم کی درخواست ہے لیکن اس کی تاکید ہوتی ہے اور اللہ کانام لے کر سوال کیا گیا ہوتا ہے ، اس لیے اسے ضرور پورا کرنا چاہیے ۔ 2۔ اگر کسی ناجائز کام کے لیے قسم دی جائے تو اسے پورا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے : (تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ‌ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ) ( المائدۃ 5:2) ’’ نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو ۔‘‘ اسی طرح کسی ایسے کام کا مطالبہ قسم دے کر کیا گیا ہے جو اس کے لیے کرنا مشکل ہے ، تب بھی وہ پورا نہ کرنے میں معذور ہے ۔ 3۔ روز مرہ کے چھوٹے موٹے معاملات میں قسم کا پورا کرنا حسن اخلاق میں شامل ہے مثلا : اگر کوئی کہے : میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اس کھانے میں سے ضرور کھاؤ تو تھوڑا بہت کھا لینا چاہیے تاکہ مسلمان کو رنج نہ پہنچے۔