Book - حدیث 2113

كِتَابُ الْكَفَّارَاتِ بَابٌ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ ضعیف حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يَقُوتُ أَهْلَهُ قُوتًا فِيهِ سَعَةٌ، وَكَانَ الرَّجُلُ يَقُوتُ أَهْلَهُ قُوتًا فِيهِ شِدَّةٌ، فَنَزَلَتْ: {مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ} [المائدة: 89]

ترجمہ Book - حدیث 2113

کتاب: کفارے سے متعلق احکام و مسائل باب: مسکینوں کو اپنے معیار کے مطابق اوسط درجے کا کھانا دینے کا بیان حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے گھر والوں کو وسعت کے ساتھ کھانا دیتا تھا اور کوئی تنگی کے ساتھ دیتا تھا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: (أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ) اوسط درجے کا کھانا جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔ مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سندا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح الاسناد قرار دیا ہے ۔ دیکھیے : (سنن ابن ماجہ بتحقیق الدکتور بشار عواد ، حدیث : 2113، وصحیح ابن ماجہ ، رقم : 1730 ، وسنن ابن ماجہ بتحقیق محمود حسن نصار ، رقم : 2113 ) بہر حال کھانے کی کوئی خاص مقدار یا معیار مقرر نہیں بلکہ گھر میں عام طور پر جیسا کھانا تیار ہوتا ہے اسی معیار اور مقدار کے مطابق دس غریب آدمیوں کو کھانا کھلا دیا جائے ۔ جب مہمان آئیں تو بہتر کھانا تیار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ بعض اوقات معمول سے کم درجے کا کھانا بھی کھا لیا جاتا ہے ۔ کفارے میں نہ تو مہمانوں والا پر تکلف کھانا دینا مطلوب ہے نہ بالکل ادنیٰ درجے کا جیسے گھر میں بعض اوقات اچار یا چٹنی سے بھی گزارہ کر لیا جاتا ہے ۔ بلکہ ہر شخص کے اکثر ایام کے معمول کا لحاظ رکھتے ہوئے کھانا کھلایا جائے ۔ واللہ اعلم