Book - حدیث 2085

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابٌ هَلْ تُحِدُّ الْمَرْأَةُ عَلَى غَيْرِ زَوْجِهَا صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ»

ترجمہ Book - حدیث 2085

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل باب: کیا عورت خاوند کے علاوہ کسی اور کا سوگ بھی کرسکتی ہے؟ حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: عورت کے لیے جائز نہیں کہ خاوند کے سوا کسی فوت ہونے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔ 1۔خاوند کے علاوہ دوسرے قریبی رشتے داروں کی وفات پر بھی افسوس کے اظہار کے لیے زیب و زینت نہ کرنا درست ہے۔2:اظہار افسوس کے لیے تین دن تک زینت ترک کرنی چاہیے۔3:خاوند کی وفات پوری عدت دوران زیب و زینت سے پرہیز کیا جائے۔