Book - حدیث 2083

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابُ عِدَّةِ أُمِّ الْوَلَدِ صحیح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: «لَا تُفْسِدُوا عَلَيْنَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»

ترجمہ Book - حدیث 2083

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل باب: ام ولد کی عدت کا بیان حضرت عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم پر ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی سنت خلط ملط نہ کرو۔ ام ولد کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔ 1۔ام ولد سے مراد وہ لونڈی ہے جس سے اس کے مالک کی اولاد پیدا ہو۔2:ام ولد کے بارے میں حضرت عمر کا فرمان ہے:’’جو لونڈی اپنے آقا سے اولادتو وہ اسے نہ بیچے‘نہ ہبہ کرے‘نہ اسے وراثت میں کسی کے حوالے کرے‘(زندگی میں) اس سے فائدہ اٹھاتا رہے‘جب مر جائے تو وہ عورت آزاد ہے۔‘‘ (موطا امام مالک ‘العتق والولاء‘ باب عتق امھات الاولاد......:2/291) 3:چونکہ ام ولد اپنے مالک کی وفات کی وجہ سے آزاد ہو جاتی ہے‘اس لیے اس کی عدت آزاد عورت والی ہے۔ ام ولد عدت کی بابت اختلاف ہے‘ دیکھیے:(المغني لابن قدامہ: 11/262-264) 4: یہ روایت بعض کے نزدیک صحیح ہے۔