Book - حدیث 2058

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابُ عِدَّةِ الْمُخْتَلِعَةِ حسن صحیح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ النَّيْسَابُورِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، قَالَ: قُلْتُ لَهَا: حَدِّثِينِي حَدِيثَكِ، قَالَتْ: اخْتَلَعْتُ مِنْ زَوْجِي، ثُمَّ جِئْتُ عُثْمَانَ، فَسَأَلْتُ: مَاذَا عَلَيَّ مِنَ الْعِدَّةِ؟ فَقَالَ: «لَا عِدَّةَ عَلَيْكِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِكِ، فَتَمْكُثِينَ عِنْدَهُ حَتَّى تَحِيضِينَ حَيْضَةً» ، قَالَتْ: «وَإِنَّمَا تَبِعَ فِي ذَلِكَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرْيَمَ الْمَغَالِيَّةِ، وَكَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، فَاخْتَلَعَتْ مِنْهُ»

ترجمہ Book - حدیث 2058

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل باب: خلع لینے والی کی عدت حضرت عبادہ بن ولید ؓ نے حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء ؓا سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے انہیں کہا: مجھے اپنا واقعہ سنائیے۔ انہوں نے فرمایا: میں نے اپنے خاوند سے خلع لے لیا، پھر میں نے حضرت عثمان ؓ کی خدمت میں حاضڑ ہو کر پوچھا: مجھ پر کتنی عدت ہے؟ انہوں نے فرمایا: تم پر کوئی عدت نہیں، سوائے اس صورت کے کہ اس نے تجھ سے تھوڑا عرصہ پہلے مقاربت کی ہو، تب تم اس کے پاس ٹھہری رہو حتی کہ ایک حیض آ جائے۔ حضرت ربیع ؓ نے فرمایا: عثمان ؓ نے اس مقدمے میں رسول اللہ ﷺ کے اس فیصلے کی پیروی کی تھی جو آپ ﷺ نے حضرت مریم مغالیہ ؓا کے بارے میں دیا تھا۔ وہ حضرت ثابت بن قیس ؓ کے نکاح میں تھیں، پھر انہوں نے خلع لے لیا تھا۔ 1۔خلع کی ظاہری صورت اگرچہ طلاق کے مشابہ ہے ، یعنی عورت کے مطالبے پر مرد اسے طلاق دیتا ہے، تاہم یہ حقیقت میں فسخ نکا ح ہے، اس لیے اس کی عدت تین حیض نہیں بلکہ ایک حیض ہے۔2۔ خلع کے بعد ایک حیض کا انتظار استبرائے رحم کےلیے ہے، یعنی اس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ عورت امید سے تو نہیں۔ ایک بار حیض آنے پر یہ بات معلوم ہوجاتی ہے۔ اگر حیض نہ آئے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ حمل سے ہے، لہذا بچے کی ولادت تک دوسرے مرد سے نکاح نہیں کرسکتی۔