Book - حدیث 2053

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابُ الرَّجُلِ يُخَيِّرُ امْرَأَتَهُ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ: {وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ} [الأحزاب: 29] ، دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ، إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ» ، قَالَتْ: قَدْ عَلِمَ، وَاللَّهِ، أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، قَالَتْ: فَقَرَأَ عَلَيَّ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا} [الأحزاب: 28] الْآيَاتِ، فَقُلْتُ: فِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ قَدِ اخْتَرْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ

ترجمہ Book - حدیث 2053

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل باب: مرد کا اپنی بیوی کو ( نکاح میں رہنے یا الگ ہو جانے کا ) اختیار دینا حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب سورہ احزاب کی یہ آیت نازل ہوئی: (وَإِن كُنتُنَّ تُرِ‌دْنَ ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُۥ) اگر تم اللہ کی، اس کے رسول کی اور آخرت کے گھر کی طالب ہو تو اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: عائشہ! میں تجھے ایک بات کہہ رہا ہوں، بہتر ہے کہ تو اس (کا فیصلہ کرنے) میں جلدی نہ کرنا بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کر لینا۔ ام المومنین نے کہا: اللہ کی قسم! (آپ نے مشورہ لینے کو اس لیے فرمایا تھا کہ) آپ کو یقین تھا کہ میرے والدین مجھے کبھی آپ سے جدائی کا مشورہ نہیں دیں گے۔ ام المومنین ؓا فرماتی ہیں: (یہ فرمانے کے بعد) آپ نے مجھے وہ آیات پڑھ کر سنائیں: (يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّأَزْوَ‌ٰجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِ‌دْنَ ٱلْحَيَو‌ٰةَ ٱلدُّنْيَا وَزِينَتَهَا) اے نبی! اپنی بیویوں سے فر دیجئے کہ اگر تمہیں دنیا کی زندگی اور دنیا کی زیب و زینت مطلوب ہے تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دے کر اچھے طریقے سے رخصت کر وں۔ اور اگر تم اللہ کی، اس کے رسول کی اور آخرت کے گھر کی طالب ہو تو اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ میں نے کہا: (اے اللہ کے رسول!) کیا میں اس معاملے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ میں نے (دنیا کی دولت کے مقابلے میں) اللہ اور اس کے رسول (کی رضا اور محبت) کا انتخاب کر لیا ہے۔ 1۔ اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ہے کہ رسول اللہﷺ نے سب سے پہلے ان تک اللہ کا یہ پیغام پہنچایا۔2۔ اس میں امہات المومنین رضی اللہ عنہن کی رسو ل اللہﷺ سے محبت کا بیان ہے۔3۔ امہات المومنین کے عظیم ایمان اور آخرت کےاجر و ثواب کی طلب کا ذکر ہے جس کی وجہ سے انہوں نے دنیا کی عیش و عشرت کی بجائے آخرت کے ثواب کے حصول کا فیصلہ فرمالیا۔4۔رسول اللہﷺ کی یہ خواہش کہ والدین سے مشورہ کرکے جواب دیں، اس لیے تھی کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کم عمری کی وجہ سے کوئی غلط جذباتی فیصلہ نہ کر بیٹھیں۔5۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے والدین کے ایمان کی پختگی اور ایمانی فراست پر نبیﷺ کا اعتماد۔