Book - حدیث 2026

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ الْحَامِلِ إِذَا وَضَعَتْ ذَا بَطْنِهَا بَانَتْ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ قَالَ: حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، أَنَّهُ كَانَتْ عِنْدَهُ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ، فَقَالَتْ لَهُ وَهِيَ حَامِلٌ: طَيِّبْ نَفْسِي بِتَطْلِيقَةٍ، فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَرَجَعَ وَقَدْ وَضَعَتْ، فَقَالَ: مَا لَهَا؟ خَدَعَتْنِي، خَدَعَهَا اللَّهُ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «سَبَقَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ، اخْطُبْهَا إِلَى نَفْسِهَا»

ترجمہ Book - حدیث 2026

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل باب: حاملہ مطلقہ جب بچہ جنے تو اس کی عدت ختم ہو جاتی ہے ( اور خاوند رجوع نہیں کر سکتا) حضرت زبیر بن عوام ؓ سے روایت ہے، حضرت ام کلثوم بنت عقبہ ؓ ان کے نکاح میں تھیں۔ ایام حمل میں انہوں نے اس (زبیر) سے کہا: ایک طلاق دے کر میرا دل خوش کر دیجئے۔ انہوں نے ایک طلاق دے دی۔ اس کے بعد وہ نماز کے لیے چلے گئے، واپس آئے تو ام کلثوم ؓ کے ہاں ولادت ہو چکی تھی۔ انہوں نے کہا: اس نے یہ کیوں کیا؟ اس نے مجھ سے دھوکا کیا ہے۔ اللہ اسے دھوکے کی سزا دے، پھر وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے (اور واقعہ بیان کیا) تو نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ کے قانون کے مطابق مقرر وقت گزر چکا۔ (اب) اسے (دوبارہ) نکاح کا پیغام دے دو۔ 1۔اس حدیث میں بیان کردہ مسئلہ صحیح ہے، اسی لیے بعض حضرات کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے۔ 4۔ حضرت زبیر نے اسے طلاق دے دی تھی کہ ایک طلاق تو رجعی ہوتی ہے،پھر رجوع کرلوں گا۔انہیں معلوم نہیں تھا کہ ولادت کا وقت اس قدر قریب ہے۔3۔ رجعی طلاق کے بعد جب عدت گزر جائے تو زبانی رجوع کافی نہیں ہوگا بلکہ نئے سرے سے نکاح کرنا پڑے گا۔4۔ دوبارہ پیغام دینے کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ پسندکرےگی تو دوبارہ نکاح کرے گی ورنہ زبردستی تو نہیں ہوسکتی۔5۔ بچے کی پیدائش سے طلاق کی عدت بھی ختم ہوجاتی ہے اور خاوند کی وفات کی عدت بھی۔