Book - حدیث 2024

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابُ مَنْ طَلَّقَ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: حَدِّثِينِي عَنْ طَلَاقِكِ، قَالَتْ: «طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا، وَهُوَ خَارِجٌ إِلَى الْيَمَنِ، فَأَجَازَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

ترجمہ Book - حدیث 2024

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل باب: ایک مجلس کی تین طلاقیں حضرت عامر شعبی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت فاطمہ بنت قیس ؓا سے کہا: مجھے اپنی طلاق کے بارے میں بتائیے۔ انہوں نے فرمایا: میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دے دیں جب کہ وہ یمن گئے ہوئے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے اسے نافذ قرار دے دیا۔ 1۔ صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہو تا ہے کہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے خاوند حضرت ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ مخزومی رضی اللہ عنہ نے دو طلاقیں پہلے دی تھیں۔ اور تیسری طلاق یمن سے حضرت عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ کے ذریعے سے بھیجی۔ تین طلاقیں اکٹھی نہیں دی تھیں۔ (صحیح مسلم، الطلاق، باب المطلقۃ البائن لا نفقۃ لہا، حدیث:1480) اسی تفصیل کی روسے کئی محققین نے اس روایت کو بھی صحیح کہا ہے کیونکہ اس روایت کا ابہام صحیح مسلم کی روایت سے دور ہوگیا ۔ بہرحال صحیح مسئلہ یہی ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوں گی۔(اس کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: کتاب’’ ایک مجلس کی تین طلاقیں‘‘ تالیف حافظ صلاح الدین یوسف﷾۔ 2۔ طلاق جس طرح عورت کو براہ راست مخاطب کرکے دی جاسکتی ہے ، ایسے ہی کسی قابل اعتماد شخص کے ذریعے سے طلاق کا پیغام بھی بھیجا جا سکتا ہے اور لکھ کر بھی طلاق بھیجی جاسکتی ہے۔ ہر صورت میں طلاق واقع ہوجائے گی۔