Book - حدیث 2022

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابُ طَلَاقِ السُّنَّةِ صحیح حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ أَبِي غَلَّابٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ: «تَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ؟ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا» ، قُلْتُ: أَيُعْتَدُّ بِتِلْكَ؟ قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ؟

ترجمہ Book - حدیث 2022

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل باب: طلاق دینے کا صحیح طریقہ حضرت ابو غلاب یونس بن جبیر باہلی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے پوچھا کہ اگر مرد اپنی عورت کو ایام حیض میں طلاق دے دے (تو کیا حکم ہے؟) انہوں نے کہا: آپ عبداللہ بن عمر (ؓ) کو جانتے ہیں؟ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی جب کہ وہ ایام میں تھی (میں تمہیں اپنا واقعہ سناتا ہوں۔) پھر حضرت عمر ؓ نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر معاملہ عرض کیا تو نبی ﷺ نے رجوع کر لینے کا حکم دیا۔ میں نے کہا: وہ طلاق شمار ہو گی؟ انہوں نے فرمایا: اگر وہ عاجز ہو یا حماقت کرے تو؟ 1۔نبیﷺ نے رجوع کرنے کاحکم دیا۔ اس لفظ سے دلیل لی گئی ہے کہ وہ طلاق واقع ہوگئی تھی کیونکہ رجوع طلاق کے بعد ہی ہوتا ہے ۔ جو حضرات اس طلاق کے واقع ہونے کے قائل نہیں وہ اس کا یہ مطلب لیتے ہیں کہ اس سے ازدواجی تعلقات قائم کرلیے جائیں پہلے قائم تھے۔2۔’’اگر وہ عاجز ہو‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اگر اسے صحیح طریقے سے طلاق دینا نہیں آیا،اور اسے نے احمقانہ حرکت کی ہے تو اس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟اس کا یہ مطلب بھی لیا گیا ہے کہ طلاق تو طلاق ہی ہے وہ تو ہوہی گئی، یا یہ مطلب ہے کہ جب وہ صحیح طریقے سے طلاق نہیں دے سکا تو وہ دینا نہ دینا برابر ہے۔ امام بخاری﷫ نےیہ مطلب بیان کیا ہے کہ طلاق واقع ہوگئی۔( صحیح البخاری، الطلاق، باب اذ طلقت الحائض تعتد بذلک الطلاق، حدیث:5252) یہی مطلب زیادہ صحیح ہے۔